بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے زرعی تحقیق، غذائی تحفظ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا ہے۔
بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر کا زرعی تحقیق، غذائی تحفظ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے زرعی تحقیق، غذائی تحفظ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے دورہ کے دوران دوسری بائیوٹیکنالوجی سوسائٹی آف پاکستان کانگرس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن کا انعقاد سنٹر فار بائیوکیمسٹری اینڈ بائیوٹیکنالوجی، مرکز برائے اعلیٰ تعلیم، ڈی ایٹ اور بائیوٹیکنالوجی سوسائٹی کے زیراہتمام کیا گیا۔ ہائی کمشنر محمد اقبال حسین خان نے کہا کہ بنگلہ دیش چاول اور مچھلی کی پیداوار میں بڑی حد تک خودکفیل ہے تاہم پولٹری اور ڈیری کی صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے مکئی سمیت مختلف اجناس درآمد کرنا پڑتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی مکئی اور چاول برآمد کرنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی خلا کو پُر کرنے اور زرعی تجارت بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی زرعی بنیادیں مشترک ہیں، دونوں ممالک میں زرخیز زمینیں موجود ہیں اور معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستانی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے زرعی ترقی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی خدمات کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔ محمد اقبال حسین خان نے ڈی ایٹ، سارک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسے کثیرالجہتی فورمز کے تحت دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون میں اضافہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بائیوٹیکنالوجی کے روزمرہ زندگی اور خوراک کی پیداوار میں بڑھتے ہوئے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان ایسی ٹیکنالوجیز اور جدید طریقہ ہائے کاشت تیزی سے اپنا رہے ہیں جو پیداوار اور منافع میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنس دانوں کو مختلف ماحولیاتی حالات کے مطابق موزوں ٹیکنالوجیز کی نشاندہی کرنی چاہیے اور ان کے محفوظ و ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا چاہیے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ ڈی ایٹ کے رکن ممالک کو غذائی تحفظ بہتر بنانے اور عوام کو سستی خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے زرعی تحقیق، استعداد کار میں اضافے اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایٹ کے بانی رکن بنگلہ دیش سمیت دیگر رکن ممالک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) فصلوں اور بائیوٹیکنالوجی پر تحقیق سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی ان ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے لیے اپنی تیاری بہتر بنانے اور بین الاقوامی تجربات کی روشنی میں پالیسی فریم ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے اور ان ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان سائنسی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سستی اور محفوظ خوراک کی فراہمی کی جانب پیش رفت کر سکے۔ میاں نوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025ء پاکستان کی زراعت کو جدید، سائنسی بنیادوں پر استوار اور جدت سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی زرعی پیداوار میں اضافے، جدت کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری کے فروغ اور بائیوٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ و مؤثر استعمال کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ تقریب سے شاہد محمود، ڈاکٹر عبدالرشید، چین کے پروفیسر ہون منگ لام، پروفیسر رتنا کماری، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیوٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شوکت علی، ڈاکٹر زنیرا افضل اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔







