حکومت بجلی کے شعبے میں تاریخ ساز اصلاحات کر رہی ہے، گردشی قرضے میں اضافے کو گزشتہ دو سال سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے ۔ سردار اویس لغاری

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں تاریخ ساز اصلاحات کر رہی ہے، گردشی قرضے میں اضافے کو گزشتہ دو سال سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ اس میں 780 ارب روپے کی تاریخی کمی کے بعد گردشی قرضہ 2,400 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 1,680 ارب روپے رہ گیا ہے۔منگل …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں تاریخ ساز اصلاحات کر رہی ہے، گردشی قرضے میں اضافے کو گزشتہ دو سال سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ اس میں 780 ارب روپے کی تاریخی کمی کے بعد گردشی قرضہ 2,400 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 1,680 ارب روپے رہ گیا ہے۔منگل کونسٹ یونیورسٹی میں منعقدہ نیشنل انرجی سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی اور بجلی کے شعبے میں مسابقتی مارکیٹ متعارف کرا دی گئی ہے، ایک میگاواٹ تک کے صارفین اپنی بجلی خود خرید سکیں گے جبکہ پاور سیکٹر میں مسابقتی مارکیٹ کا پہلا درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ماہ میں مسابقتی مارکیٹ کے تحت 400 میگاواٹ بجلی ٹرانسمیشن گرڈ پر منتقل کی جائے گی اور وہیلنگ چارجز 28 روپے سے کم کرکے تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ کر دیئے گئے ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں عوام کو آئندہ 15 سال کے دوران 3.5 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی، آئی پی پیز کے علاوہ حکومتی پاور پلانٹس کے منافع (آر او ای) میں بھی کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن کا قومی بجٹ پر بوجھ 1.2 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 2027 تک 700 ارب روپے رہ جائے گا جس سے حکومتی بجٹ پر 500 ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلیوں سے ہونے والے نقصانات 591 ارب روپے سے کم کرکے تقریباً 330 ارب روپے سے بھی نیچے لائے گئے ہیں جس سے ان کمپنیوں کی کارکردگی میں 260 ارب روپے سے زائد کی بہتری آئی ہے، بجلی کے شعبے سے اقربا ء پروری کا خاتمہ کرکے کمپنیوں میں پیشہ وارانہ بورڈز تعینات کئے گئے ہیں۔

بجلی کے بلوں کی مجموعی وصولی 93 فیصد سے بڑھ کر 97 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پنجاب کی تقسیم کار کمپنیاں 100 فیصد وصولی کا ہدف حاصل کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انٹیگریٹڈ سسٹم پلان تیار کرکے نیپرا سے منظور کرایا گیا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت 8,000 میگاواٹ کے غیر ضروری بجلی منصوبے منسوخ کئے گئے جس سے مستقبل میں عوام پر پڑنے والا 17 ارب امریکی ڈالر کا بوجھ ختم کیا گیا ہے، پاور سیکٹر ڈیٹا گورننس کونسل قائم کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) میں مرکزی ڈیٹا ریپوزٹری قائم کی جائے گی۔صنعتی ترقی کے حوالے سے اویس لغاری نے کہا کہ حکومت صنعتی بجلی کا ٹیرف ساڑھے آٹھ سے نو سینٹ فی یونٹ تک لانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے تاکہ ملکی صنعتوں کو مسابقتی بنایا جا سکے۔ ملک میں بجلی کی مجموعی سالانہ طلب کم ہے تاہم پیک ڈیمانڈ 27 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے۔

پیک ڈیمانڈ میں کمی اور ڈیمانڈ سائیڈ مینجمنٹ کے لیے جلد ایک خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔وفاقی وزیر نے آٹو سیکٹر کے اعداد و شمار میں بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رینٹ سیکنگ ماڈل ختم کرکے مسابقتی پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال گرڈ پر پیدا ہونے والی 76 فیصد بجلی مقامی وسائل سے حاصل کی گئی جبکہ 2036 تک پاکستان کی 94 فیصد بجلی مقامی اور سستے ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گرڈ پر 56 فیصد سے زائد بجلی ماحول دوست اور کلین انرجی ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ 2036 تک بجلی کے نظام میں 10 ہزار میگاواٹ ہائیڈل پاور شامل کی جائے گی جبکہ آئندہ 10 سال کے دوران 22 گیگاواٹ، یعنی 22 ہزار میگاواٹ ڈسٹری بیوٹڈ سولر انرجی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو مقامی تھر کول پر منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی روکنے کا اقدام جنگ تصور ہوگا۔ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہے اور بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) اور وزارت پٹرولیم کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے پلیٹ فارم پر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ نیا انٹیگریٹڈ انرجی پلان توانائی، معیشت، مساوات اور ماحولیات کے چار ستونوں پر مبنی ہے اور اس میں صرف بجلی نہیں بلکہ تیل، گیس، زراعت اور ٹرانسپورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

 

مزید خبریں