عالمی ذرائع ابلاغ کی سندھ طاس معاہد ے سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کی بھرپور کوریج

عالمی ذرائع ابلاغ نے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے1960 کے سندھ طاس معاہد ے کو مکمل طور پر نافذ العمل قراردینے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبوں کی تعمیر محدود کرنے کا حکم دینے کے فیصلے کی بھرپور کوریج کی ۔ بڑے عالمی اخبارات اور خبر رساں اداروں نے عدالت کے اس مؤقف کو نمایاں کیا کہ بھارت کی جانب سے تاریخی آبی …

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):عالمی ذرائع ابلاغ نے دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کے1960 کے سندھ طاس معاہد ے کو مکمل طور پر نافذ العمل قراردینے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری پن بجلی منصوبوں کی تعمیر محدود کرنے کا حکم دینے کے فیصلے کی بھرپور کوریج کی ۔ بڑے عالمی اخبارات اور خبر رساں اداروں نے عدالت کے اس مؤقف کو نمایاں کیا کہ بھارت کی جانب سے تاریخی آبی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش کو بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قانونی جواز حاصل نہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کے پاس معاہدہ ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔رپورٹ کے مطابق عدالت نے نئی دہلی کو دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کے رَتلے پن بجلی منصوبے پر کام محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔ تعمیر کی موجودہ سطح پر پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک تکنیکی جائزہ پیش کرنے کے 90 دن بعد کی مدت مکمل نہیں کرلیتا۔اس فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ہسپانوی ڈیجیٹل نیوز ادارے Demócrata نے رپورٹ کیا کہ ثالثی عدالت نے خاص طور پر یہ جانچنے کی کوشش کی کہ کیا بھارت اپنے اقدامات کو ’’جوابی کارروائی‘‘ یا جاری جنگ کا حصہ قرار دے کر درست ثابت کرسکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسا کوئی تنازع موجود نہیں اور بھارت کا طرزِ عمل معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابلِ اطلاق اصولوں کے تحت قابلِ قبول نہیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ معاہدے کو معطل کرنا انسانی حقوق اور زیریں علاقوں میں پانی کے تحفظ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔فیصلے کے تزویراتی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے وائس آف ایمریٹس نے کہا کہ پی سی اے کا فیصلہ دوطرفہ معاہدوں کی پابند حیثیت کو دوبارہ واضح کرتا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ عدالت کے احکامات اور غیر جانب دار ماہر کی 2027 میں متوقع رپورٹ پر عمل درآمد خطے میں کشیدگی بڑھنے سے روکنے اور پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

فیصلے کے عملی اثرات بیان کرتے ہوئے ایک اور ڈیجیٹل اشاعتی ادارے سٹریم لائن فیڈ نے اس فیصلے کو کشمیر میں بھارت کے توانائی کے منصوبوں کے لیے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق ثالثی عدالت کے حکم کے نتیجے میں نئی دہلی کو رَتلے منصوبے کے اہم حصوں پر کام روکنا پڑے گا تاکہ دریائے چناب کے پانی کا بلا تعطل بہاؤ برقرار رہے۔بھارتی میڈیا اداروں دی ہندو بزنس اور گجرا ت سماچار نے بھی بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قانونی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کو اجاگر کیا۔عالمی میڈیا میں وسیع پیمانے پر ہونے والی یہ کوریج پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی اور سفارتی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد زرعی اراضی کو پانی فراہم کرنے والے دریاؤں سے متعلق معاہدے کو بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل کرنا آبی بالادستی اور جارحیت پر مبنی اقدام ہے۔پاکستانی حکام اور قانونی ماہرین نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے علاقائی سلامتی کے مسائل کو جواز بنا کر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارت کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔عدالت کی جانب سے اس بات کی تصدیق کہ سندھ طاس معاہدہ تین بڑی جنگوں کے باوجود برقرار رہا اور آج بھی نافذ العمل ہے، پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ زیریں علاقوں کے پانی پر حقوق کو بالائی علاقے کا ملک یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا۔

 

مزید خبریں