سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی بڑی کامیابی ہے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور

سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی بڑی کامیابی ہے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی بڑی کامیابی ہے، فیصلے سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی کوشش کو واضح قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل، ختم یا غیر مؤثر نہیں کر سکتا، سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر مؤثر ہے اور پاکستان و بھارت دونوں پر لازم ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر کرنے کی کوشش کو عالمی ثالثی عدالت میں واضح قانونی شکست کا سامنا کرنا پڑا، خودمختاری، مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر بنیادوں پر بھارت کے دلائل بھی عدالت میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا، رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عدالت کے عبوری اقدامات بھی پاکستان کے مؤقف کی اہم تائید ہیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، پاکستان اپنے قانونی حقوق پر ثابت قدم رہا اور عالمی ثالثی عدالت نے ہمارے مؤقف کی توثیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان، بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے، سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی بھارتی کوشش کو بڑا قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان قانونی و سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کو ہٹ دھرمی ترک کرکے عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرنا ہوگا۔

مزید خبریں