کاشتکاروں کو کما د کی فصل کو سہہ اور چوہوں سے بچانے کیلئے فوری طور پر ان کے بلوں میں ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں رکھ کر بل بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سہہ اورچوہے کماد کی فصل کو تباہ نہ کرسکیں اور مذکورہ گولیوں سے پیدا ہونے والی فاسفین گیس سے چوہوں اور سہہ کے خاتمہ میں مدد مل سکے
سیالکوٹ ،محکمہ زراعت کی کما د کی فصل کو سہہ اور چوہوں سے بچانے کیلئے فوری ان کے بلوں میں ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں رکھ کر بل بند کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
سیالکوٹ ۔ 31 اگست (اے پی پی):کاشتکاروں کو کما د کی فصل کو سہہ اور چوہوں سے بچانے کیلئے فوری طور پر ان کے بلوں میں ایلومینیم فاسفائیڈ کی گولیاں رکھ کر بل بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سہہ اورچوہے کماد کی فصل کو تباہ نہ کرسکیں اور مذکورہ گولیوں سے پیدا ہونے والی فاسفین گیس سے چوہوں اور سہہ کے خاتمہ میں مدد مل سکے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے آج پیر کو اپنے پیغام میں کہا کہ کماد کی فصل کو نشوونما کے اس مرحلہ پر چوہوں، سہہ اور جنگلی سوروں کے نقصان سے بچانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ چوہے فصل کی جڑوں اور تنے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور یہ فصل کو کتر کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں جس سے حملہ شدہ گنے خشک ہو جاتے ہیں تاہم کھیتوں کے اردگرد سے جڑی بوٹیاں اور سرکنڈے وغیرہ تلف کرنے سے چوہوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے کیونکہ یہ ان میں چھپے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکار جنگلی بلیوں، گیدڑوں اور الوں کا شکار نہ کریں کیونکہ چوہے ان کی اہم خوراک ہیں اسی طرح پنجرے یا کڑکی میں گھی والی روٹی، امرود یا سیب وغیرہ لگا کر چوہوں کا شکار کر کے تلف کریں۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار زنک فاسفائیڈ کی گڑ اور آٹے کے ساتھ گولیاں بنا کر چوہوں کے بلوں کے قریب رکھیں تاکہ چوہے گولیاں کھا کر مر جائیں نیز ایلومینیم فاسفائیڈ (فاسفین یا ڈیٹیا گیس) کی ایک گولی بل کے اندر رکھ کر بند کرنے سے بھی چوہے تلف ہو جائیں گے۔انہوں نے بتایاکہ سہہ بھی کماد کی جڑوں اور تنے پر حملہ آور ہوتی ہے اور اپنے بلوں سے کافی دور تک جا کر نقصان کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ چونکہ سہہ مٹی کے ڈھیروں اور اجاڑ جگہوں پر بل بنا کر رہتی ہے لہذا مٹی کے ڈھیروں اور اجاڑ جگہوں کو اردگرد کے کھیتوں سے ختم کر دیاجائے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جنگلی سور بھی فصل کو توڑ، کتر اور گرا کر نقصان پہنچاتے ہیں لہذا کتوں کے ذریعے ان کا شکار کیاجائے اور متاثرہ کھیت کے ارد گرد یا ان کی آمد کے راستوں میں زہریلے طعمے رکھ دیئے جائیں جن کو کھا کر یہ ہلاک ہو سکتے ہیں۔







