سعودی عرب نے فینکس میں منعقدہ عالمی سائنس و انجینئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) میں مسلسل تیسرے سال بھی بین الاقوامی سطح پر دوسرا مقام برقرار رکھا ہے اور نوجوان سعودی سائنسدانوں نے 12 ایوارڈز جیت لیے۔
عالمی سائنس و انجینئرنگ فیئر ، نوجوان سعودی سائنسدانوں نے 12 ایوارڈز جیت لیے

مزید خبریں
ریاض۔17مئی (اے پی پی):سعودی عرب نے فینکس میں منعقدہ عالمی سائنس و انجینئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) میں مسلسل تیسرے سال بھی بین الاقوامی سطح پر دوسرا مقام برقرار رکھا ہے اور نوجوان سعودی سائنسدانوں نے 12 ایوارڈز جیت لیے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے نوجوان سائنسدانوں نے فینکس میں منعقدہ عالمی سائنس و انجینئرنگ فیئر میں 12 خصوصی ایوارڈز اپنے نام کیے جو عالمی سائنسی تحقیق اور انوویشن میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔70 ممالک سے آنے والے 1700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں سعودی وفد نے بین الاقوامی سائنسی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے اعزازات حاصل کیے۔ یہ ایوارڈز ان منصوبوں پر دیے گئے جنہیں تحقیقی معیار، پریکٹیکل ایپلی کیشن اور جدید سائنسی شعبوں سے مطابقت کے باعث سراہا گیا۔سعودی عرب نے 2007 سے ہر سال آئی ایس ای ایف میں شرکت کی ہے جو کہ ’موھبہ‘ کے نام سے معروف کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینیئنز گفٹڈنیس اینڈ کری ایٹیوٹی فاؤنڈیشن اور سعودی وزارت تعلیم کی شراکت داری کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔اس سال کے وفد میں 40 طلبہ شامل تھے جن میں سے 23 نے فینکس میں مقابلے میں حصہ لیا جبکہ 17 طلبہ نے ریاض سے آن لائن شرکت کی۔ ان طلبہ نے انجینئرنگ، میڈیکل سائنسز، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے۔ایونٹ کے موقع پر ’موھبہ‘نے ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا جس میں سعودی عرب کے اُس طریقۂ کار کو پیش کیا گیا جس کے ذریعے ہونہار طلبہ کی نشاندہی، ان کی ترقی اور انہیں بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔امریکا اور کینیڈا میں سعودی ثقافتی اتاشی ڈاکٹر تہانی البعیز نے کہا کہ ٹیم کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اپنے نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور انہیں دنیا کے بڑے بین الاقوامی سائنسی فورمز میں مقابلہ کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ایس پی اے کے مطابق البعیز نے کہا کہ طلبہ کے منصوبے قومی ترجیحات سے متعلق تھے جن میں توانائی، انجینئرنگ، میڈیکل سائنسز اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جو سعودی عرب کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے اور معیشت کو متنوع بنانے کے اہداف کی حمایت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں سعودی کلچرل مشن دنیا کی ٹاپ 30 یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم 1500 سے زیادہ سعودی سکالرشپ طلبہ کی نگرانی کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ آئی ایس ای ایف میں شریک ہونے والے کئی طلبہ مستقبل میں انہی اداروں کا حصہ بنیں گے۔انہوں نے طلبہ کو ’بلند ارادوں کے سفیر‘ قرار دیتے ہوئے سعودی وفد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سائنسی میدان میں سعودی عرب کے لیے مزید کامیابیاں اور نئے سنگ میل حاصل کرتے رہیں۔








