عالمی معیشت ابھی مشکلات سے نہیں نکلی،کورونا سے غربت اور عدم مساوات میں اضافے کا خدشہ ہے،آئی ایم ایف

واشنگٹن ۔ 16 جولائی (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ کچھ بہتری کے آثار کے باوجود عالمی معیشت مشکلات سے باہر نہیں نکلی اور اس کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی نئی لہر بھی شامل ہے جس کی روک تھام کے لیے حکومتوں کو اپنے پروگرامز جاری …

واشنگٹن ۔ 16 جولائی (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ کچھ بہتری کے آثار کے باوجود عالمی معیشت مشکلات سے باہر نہیں نکلی اور اس کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی نئی لہر بھی شامل ہے جس کی روک تھام کے لیے حکومتوں کو اپنے پروگرامز جاری رکھنے چاہئیں،اس وبائی مرض سے عالمی سطح پر غربت اور عدم مساوات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے رواں ہفتے کے اختتام پر سعودی عرب میں ہونے والے جی 20 ملکوں کے وزرائے خزانہ کے اجلاس سے قبل اپنے ایک پیغام میں کیا۔آئی ایم ایف چیف نے عالمی اقتصادی شرح نمو میں کمی کے حوالے سے اپنے جون کے اندازے کو مزید کم کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال عالمی جی ڈی پی میں 4.9 فیصد کمی متوقع ہے جس کی وجہ کورونا لاک ڈاﺅن کا نتیجہ ہے، تاہم ان کا کہنا تھاکہ آئندہ سال( 2021 ء) درمیانے درجے کی اقتصادی شرح نمو کا امکان ہے۔کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں کی معاشی بحالی اور انسداد کورونا سرگرمیوں کے لیے جی 20 ملکوں کی جانب سے فراہم کردہ 11 ٹریلین ڈالر کے پیکج نے اس وباءکو روکنے میں مدد کی ، تاہم ان حفاظتی اقدامات کو مزید عرصے تک برقرار رکھنے اور بعض کیسز میں انھیں بڑھانے کی ضرورت ہے، بالخصوص انہوں نے کم آمدنی کے حامل گھرانوں کے لیے تنخواہ کے ساتھ رخصت، صحت عامہ کی سہولیات اور بے روزگاری انشورنس تک رسائی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔انھوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی بحالی میں شدید مشکلات ہیں جن میں کورونا وائرس کی ممکنہ دوسری لہر بھی شامل ہے جس سے عالمی معیشت زیادہ تباہی کا شکار ہوسکتی ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ قرضوں کی حد میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال ہے ،تاہم بحران کے اس مرحلے پر اس کی ضرورت ہے۔ان کاکہنا تھا کہ وبائی مرض کے دوران کھو جانے والی بہت سی ملازمتیں واپس نہیں ہوسکتیں لہذا کارکنوں کو نئے سیکٹرز میں جانے کے لیے مدد اور تربیت کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وبائی مرض سے عالمی سطح پر غربت اور عدم مساوات میں اضافے کا خدشہ ہے۔