اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، تجارتی رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے (External Sector) نے مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر مثبت اور مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
عالمی و علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے کی کارکردگی مستحکم رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، تجارتی رکاوٹوں اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود پاکستان کے بیرونی شعبے (External Sector) نے مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر مثبت اور مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے جاری کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق محتاط معاشی پالیسیوں، کارکنوں کی ترسیلات زر میں مسلسل اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکائونٹ کے متوازن رہنے سے بیرونی شعبے کو استحکام حاصل ہوا۔سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی تاہم فروری 2026ء میں مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران نے علاقائی تجارت اور مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا۔رپورٹ کے مطابق سیلاب سے زرعی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان، خصوصاً چاول کی برآمدات میں کمی اور عالمی طلب میں سست روی کے باعث اشیاء کی برآمدات دبائو کا شکار رہیں تاہم خدمات کے شعبے کی برآمدات نے مضبوط کارکردگی دکھائی۔
پاکستان کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر برآمدات میں اضافے کا اہم ذریعہ بن کر ابھرا اور اس نے روایتی برآمدی شعبوں کی کمزوریوں کا ازالہ کرنے میں مدد دی۔اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری اور پیداواری شعبے کی بحالی کے باعث خام مال اور سرمایہ جاتی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ترسیلات زر میں 8.2 فیصد اضافہ اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں کمی کے باعث بنیادی آمدنی کے خسارے میں کمی آئی اور کرنٹ اکائونٹ کو سہارا ملا۔اسی عرصے میں پاکستان نے 72 ملین امریکی ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس ریکارڈ کیا تاہم مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد بعض اہم منڈیوں کو برآمدات معطل ہونے اور علاقائی تجارتی راہداری بند ہونے سے برآمدی شعبہ متاثر ہوا۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور بحری مال برداری کے اخراجات میں اضافے نے درآمدی بل میں اضافہ کر دیا۔ان عوامل کے نتیجے میں اپریل 2026ء میں کرنٹ اکائونٹ 324 ملین امریکی ڈالر خسارے میں چلا گیا تاہم معاشی حکام نے اسے قابل انتظام اور پائیدار سطح قرار دیا ہے۔
سروے کے مطابق سرکاری مالی معاونت اور دوست ممالک کی جانب سے اضافی تعاون کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہوا جس سے شرح مبادلہ کے استحکام اور ملکی معیشت پر اعتماد کو تقویت ملی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت کو مالی سال 2025-26 کے دوران بڑھتی ہوئی تجارتی پابندیوں، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال، مالیاتی منڈیوں کے اتار چڑھائو اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث شدید چیلنجز کا سامنا رہا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اپریل 2026ء کے ورلڈ اکنامک آئوٹ لک کے مطابق عالمی اقتصادی شرح نمو 2026ء میں 3.1 فیصد رہنے اور 2027ء میں معمولی بہتری کے ساتھ 3.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ چین، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کی اقتصادی ترقی معتدل رہنے کی توقع ہے جس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی طلب محدود ہو سکتی ہے۔
تاہم آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ان چیلنجز کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے جس سے درآمدی بل، مہنگائی اور بیرونی مالی ضروریات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق ان حالات میں مناسب زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھنا، شرح مبادلہ میں استحکام، محتاط معاشی پالیسیوں کا تسلسل اور برآمدات کی مسابقت بڑھانا پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مثبت سفارتی کوششوں نے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بہتر بنایا ہے جس کے نتیجے میں درمیانی مدت میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔اقتصادی سروے کے مطابق عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ترسیلات زر میں مضبوط اضافہ، خدمات کی برآمدات میں وسعت اور بیرونی مالی ذخائر میں بہتری نے پاکستان کے بیرونی شعبے کو استحکام فراہم کیا جبکہ پالیسی ساز معاشی استحکام برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں۔








