عدالتوں کی مؤثر کارکردگی اور انصاف کی فراہمی کیلئے مناسب انفراسٹرکچر اور بروقت مالی معاونت ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتوں کی مؤثر کارکردگی اور انصاف کی تیز تر فراہمی کے لئے مناسب عدالتی انفراسٹرکچر اور بروقت مالی معاونت ناگزیر ہے، عدالتی اصلاحات کے اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے عدلیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل ادارہ جاتی رابطہ ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی …

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتوں کی مؤثر کارکردگی اور انصاف کی تیز تر فراہمی کے لئے مناسب عدالتی انفراسٹرکچر اور بروقت مالی معاونت ناگزیر ہے، عدالتی اصلاحات کے اہداف کو عملی شکل دینے کے لئے عدلیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل ادارہ جاتی رابطہ ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سندھ میں عدالتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت، سندھ کے وزیر قانون، چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹری خزانہ سندھ نے شرکت کی۔

اجلاس میں خواتین کے لئے سہولت مراکز کی تعمیر، صوبائی و وفاقی عدالتوں کو موزوں عمارتوں میں منتقل کرنے، جاری عدالتی انفراسٹرکچر منصوبوں کی بلا تعطل تکمیل اور بروقت فنڈز کی فراہمی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کورنگی ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے، زیر التوا امور حل کرنے اور منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے اہداف کو عدالتوں کے انفراسٹرکچر، عوامی سہولت اور سروس ڈیلیوری میں عملی بہتری میں تبدیل کرنے کے لئے عدلیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل رابطہ ناگزیر ہے۔سندھ حکومت کے نمائندوں نے عدالتی شعبے کے لئے تعاون جاری رکھنے اور نظام انصاف کو مضبوط بنانے والے منصوبوں کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ محکمے عدلیہ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے زیر التوا معاملات حل کرنے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل میں معاونت کریں گے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز بالخصوص سندھ ہائی کورٹ، بار اور سندھ حکومت کے درمیان مسلسل مشاورت اور قریبی رابطے کے ذریعے باہمی اتفاق سے قابل عمل حل نکالا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات وسیع تر عدالتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں جن کا مقصد بہتر انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والی سہولیات اور مضبوط عوامی سہولت کاری کے ذریعے انصاف کے اداروں کو زیادہ قابل رسائی، مؤثر، عوام مرکز اور عوامی ضروریات کے لئے جوابدہ بنانا ہے۔

 

مزید خبریں