سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے، عدالت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے۔
عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم، رعایت کو رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے، عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے، عدالت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے۔
جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی زیتون بی بی کو تقریباً نصف صدی بعد وراثتی جائیداد کے مقدمے میں حتمی ریلیف دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی خارج کرنے کا حکم واپس لینے کی درخواست مسترد کردی۔سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ فریقین اور وکلا اکثر عدالت کی مہربانی کو محض ضابطے کی رسمی کارروائی سمجھتے ہیں تاہم عدالتی احکامات کی سنجیدگی اور تقدس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے کے مطابق نظرثانی کیس میں 4 مارچ 2024 کو مشروط التوا دیا گیا تھا، 12 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت پر دوبارہ التوا مانگا گیا، جس پر عدم پیروی کی بنیاد پر نظرثانی درخواست خارج کردی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ اب نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا 4 مارچ 2024 کا آرڈر واپس لینے کے برابر ہوگا، اس لیے مخالف فریق کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔
فیصلے کے مطابق زیتون بی بی کے والد کا 1976 میں انتقال ہوا تھا اور انہیں تب سے وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2022 میں زیتون بی بی کے حق میں فیصلہ دیا تھا جبکہ مخالف فریق کی نظرثانی درخواست بھی 2024 میں خارج کردی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی درخواست مسترد کردی۔








