چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے بار سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت اور وسیع اتفاق رائے ضروری ہے، عدالتی منصوبوں کو سائلین، وکلاء اور دیگر عدالتی صارفین کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے یہ بات سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی میں عدالتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق مشاورتی …
عدالتی اصلاحات بار کی مشاورت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں، چیف جسٹس پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے بار سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت اور وسیع اتفاق رائے ضروری ہے، عدالتی منصوبوں کو سائلین، وکلاء اور دیگر عدالتی صارفین کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے یہ بات سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی میں عدالتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے صدر محمد حسیب جمالی، اعزازی سیکرٹری فریدہ منگریو، مینجنگ کمیٹی کی رکن رخسانہ عمر، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر امیر نواز وڑائچ، جنرل سیکرٹری محمد ارشد شر اور مینجنگ کمیٹی کی رکن حسینہ بانو سمیت وکلاء برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ میں عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری، عدالتوں کو موزوں عمارتوں میں منتقل کرنے، خواتین کے لیے سہولت مراکز کے قیام اور عدالتی سہولیات کی ترقی و اپ گریڈیشن سے متعلق مختلف منصوبوں پر غور کیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی بھی عدالتی اصلاح یا ترقیاتی اقدام کے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے بامعنی مشاورت، وسیع اتفاقِ رائے اور تمام سٹیک ہولڈرز بالخصوص بار کی فعال شمولیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عدالتی منصوبے عملی، جامع اور سائلین، وکلاء اور دیگر عدالتی صارفین کی ضروریات کے مطابق ہوں۔بار نمائندگان نے چیف جسٹس پاکستان کے مشاورتی اور جامع طرز عمل کو سراہتے ہوئے مجوزہ منصوبوں اور اصلاحات کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں اور سپریم کورٹ و سندھ ہائی کورٹ کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں بینچ اور بار کے درمیان مسلسل مشاورت اور قریبی رابطے کے ذریعے عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تاکہ سندھ میں عوام کے لیے قابل رسائی، موثر اور شہری مرکز انصاف کے ادارے قائم کیے جا سکیں۔







