پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی ) نے لورالائی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سالانہ نشستوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کرنے کی منظوری دے دی ہے۔نشستوں میں اضافہ بلوچستان میں طبی تعلیم کے فروغ اور مقامی طلبہ کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے مواقع میں اضافے کی جانب اہم پیش رفت ہے محکمہ صحت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق پی …
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے لورالائی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سالانہ نشستوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کرنے کی منظوری دے دی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 02 ستمبر (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی ) نے لورالائی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سالانہ نشستوں کی تعداد 50 سے بڑھا کر 100 کرنے کی منظوری دے دی ہے۔نشستوں میں اضافہ بلوچستان میں طبی تعلیم کے فروغ اور مقامی طلبہ کے لیے میڈیکل کی تعلیم کے مواقع میں اضافے کی جانب اہم پیش رفت ہے محکمہ صحت بلوچستان کے ترجمان کے مطابق پی ایم ڈی سی کے معائنہ کاروں نے 17 اور 18 اگست کو لورالائی میڈیکل کالج کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دوران تدریسی سہولیات، فیکلٹی، منسلک تدریسی ہسپتال، انفراسٹرکچر اور دیگر ضروری انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
مطلوبہ تقاضے پورے ہونے کے بعد کالج کو 100 ایم بی بی ایس نشستوں کے لیے منظوری دی گئی ترجمان نے بتایا کہ نشستوں میں اضافے کا اقدام وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی قیادت اور سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی کی نگرانی میں جاری کاوشوں کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) کے اعلیٰ سطحی وفد نے لورالائی اور تربت کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد متعلقہ تدریسی ہسپتالوں کو CPSP کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سائٹس قرار دیا گیا۔
اس اقدام سے بلوچستان کے ڈاکٹروں کے لیے تخصصی اور پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مزید مواقع پیدا ہوئے ہیں ترجمان کے مطابق صوبے کے دیگر میڈیکل کالجز کو بھی PM&DC اور CPSP کے مقررہ معیار کے مطابق بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ جھالاوان میڈیکل کالج خضدار اور مکران میڈیکل کالج تربت کے معائنے بھی رواں ماہ متوقع ہیں، جبکہ مطلوبہ تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ان اداروں کے حوالے سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ حکومت بلوچستان میڈیکل کالجز میں نشستوں میں اضافے، پوسٹ گریجویٹ تربیت کے مواقع بڑھانے اور تدریسی ہسپتالوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکے۔







