عدالتی خودکاری اور ڈیجیٹل نظام میں جنوبی کوریا کے تجربات سے استفادہ کریں گے، چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کو عدالتی خودکاری اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عدالتی انتظام کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے جس سے قریبی ادارہ جاتی روابط کے ذریعے پاکستان میں عدالتی نظام کی خودکاری اور ڈیجیٹل انضمام کی جاری کوششوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے

اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کو عدالتی خودکاری اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے عدالتی انتظام کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے جس سے قریبی ادارہ جاتی روابط کے ذریعے پاکستان میں عدالتی نظام کی خودکاری اور ڈیجیٹل انضمام کی جاری کوششوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس سے جنوبی کوریا کے سفیر ہان سونگ ہو نے پیر کو سپریم کورٹ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور جنوبی کوریا کی عدلیہ کے درمیان عدالتی خودکاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان نے جنوبی کوریا کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیئول میں منعقدہ ایشیا و بحرالکاہل کے چیف جسٹسز کی 20ویں کانفرنس کا حوالہ دیا جہاں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی کی اور جنوبی کوریا کی سپریم کورٹ کے نیشنل کورٹ ایڈمنسٹریشن کے وزیر جسٹس نوہ گیونگ پل سے عدالتی انتظام، ڈیجیٹل تبدیلی اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ملاقات میں پاکستان اور جنوبی کوریا کی عدلیہ کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مجوزہ یادداشت پر چیف جسٹس پاکستان کے آئندہ دورہ سیول کے دوران دستخط متوقع ہیں، جس کے ذریعے عدالتی خودکاری، ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں مستقل تعاون، باہمی تجربات اور معلومات کے تبادلے کے لیے منظم فریم ورک قائم ہوگا۔جنوبی کوریا کے سفیر نے پاکستان کی عدلیہ کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تعاون مزید مستحکم کرنے کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جبکہ دونوں جانب سے خیرسگالی کے طور پر یادگاری تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا