سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی نیلامی سے قبل ضابطہ دیوانی کے آرڈر 21 رول 66(2) کے تحت فریقین کو نوٹس جاری نہ کرنا بذاتِ خود نیلامی کو کالعدم قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا، نیلامی منسوخ کرانے کے لیے درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ بے ضابطگی کے باعث اسے نمایاں مالی نقصان پہنچا ہے۔
عدالتی نیلامی میں نوٹس جاری نہ کرنا فروخت کالعدم قرار دینے کیلئے کافی نہیں، نقصان ثابت کرنا ضروری ہے، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتی نیلامی سے قبل ضابطہ دیوانی کے آرڈر 21 رول 66(2) کے تحت فریقین کو نوٹس جاری نہ کرنا بذاتِ خود نیلامی کو کالعدم قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا، نیلامی منسوخ کرانے کے لیے درخواست گزار کو ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ بے ضابطگی کے باعث اسے نمایاں مالی نقصان پہنچا ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے یہ فیصلہ لبرٹی ملز لمیٹڈ اور مسلم کاٹن ملز کے درمیان رہن شدہ صنعتی جائیداد کی نیلامی سے متعلق مقدمے میں تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے لبرٹی ملز کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا 4 فروری 2021 کا فیصلہ اس حد تک کالعدم قرار دے دیا جس میں جائیداد کی نیلامی کی توثیق کو نوٹس جاری نہ ہونے کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
ہفتہ کو رپورٹنگ کے لیے جاری منظور شدہ تفصیلی تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ مسلم کاٹن ملز اور اس کے ڈائریکٹرز عدالتی کارروائی اور نیلامی کے عمل سے آگاہ تھے، اس کے باوجود انہوں نے نیلامی سے قبل کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ نیلامی کی توثیق کے خلاف اپنی ابتدائی درخواست میں بھی نوٹس جاری نہ ہونے کا نکتہ نہیں اٹھایا گیا، اس لیے بعد میں اپیل کے مرحلے پر یہ اعتراض اٹھانے سے انہیں روکا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کے آرڈر 21 رول 90 کے تحت نیلامی منسوخ کرانے کے لیے صرف بے ضابطگی یا دھوکہ دہی کا الزام کافی نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والا نمایاں نقصان بھی ثابت کرنا ضروری ہے۔
عدالت کے مطابق محض نوٹس جاری نہ ہونے سے نیلامی خودبخود کالعدم نہیں ہوتی۔فیصلے کے مطابق کراچی کے صنعتی علاقے ٹیکسٹائل ایونیو میں واقع تقریباً 1.04 ایکڑ رہن شدہ جائیداد کی نیلامی 22 اپریل 2014 کو ہوئی تھی، جس میں لبرٹی ملز نے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بولی دی تھی۔ بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے جائیداد کی جبری فروخت کی مقررہ قیمت 22 کروڑ 75 لاکھ روپے ادا کرکے خریدنے کا اختیار لبرٹی ملز کو دیا تھا، جس پر کمپنی نے مزید 10 کروڑ 25 لاکھ روپے جمع کرا دیے تھے۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ نیلامی کی تشہیر اخبارات میں کی گئی، کسی دوسرے بولی دہندہ نے زیادہ رقم کی پیشکش نہیں کی اور مسلم کاٹن ملز بھی یہ ثابت نہیں کر سکی کہ نوٹس جاری نہ ہونے سے جائیداد کم قیمت پر فروخت ہوئی یا نیلامی کے عمل کی منصفانہ حیثیت متاثر ہوئی۔سپریم کورٹ نے مسلم کاٹن ملز کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ کے اصل فیصلے کو چیلنج کرنے کی درخواست بھی مدتِ معیاد گزرنے کے باعث خارج کر دی، کیونکہ درخواست تاخیر معاف کرانے کی استدعا کے بغیر دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے مسلم کاٹن ملز کو لبرٹی ملز کے عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔





