اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) مختلف مکاتب فکر کے خطباءو علماءکرام کے نمائندہ اجتماع نے مشترکہ اعلامیہ میں جھوٹی، من گھڑت اور بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانے کو شرعاً ممنوع قرار دیتے ہوئے اس بات کا عہد کیا ہے کہ عوام الناس کو جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے سے باز رہنے کی تلقین کرنے کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کو روکنے میں متحرک …
علماءکرام عوام کو سماجی مسائل سے آگاہی کیلئے مساجد میں اپنے خطبات کے ذریعے فعال کردار ادا کریں، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) مختلف مکاتب فکر کے خطباءو علماءکرام کے نمائندہ اجتماع نے مشترکہ اعلامیہ میں جھوٹی، من گھڑت اور بغیر تحقیق کے خبریں پھیلانے کو شرعاً ممنوع قرار دیتے ہوئے اس بات کا عہد کیا ہے کہ عوام الناس کو جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے سے باز رہنے کی تلقین کرنے کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کو روکنے میں متحرک کردار ادا کریں گے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر طہارت و صفائی کا اہتمام کرنے، گلی محلوں، قومی شاہراہوں اور بازاروں کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا عہد کرتے ہیں تاکہ ہمارا معاشرہ اور رہن سہن، اخلاق اور طہارت کا مظہر نظرآئیں، درخت، پودے اور جنگلات ماحول کی زینت اور افزائش صحت کیلئے نہایت مفید اور عمدہ سامان ہیں، ان کی حفاظت اور ان میں اضافہ ہمارا قومی و مذہبی شعار ہے۔ ہم عوام الناس کی توجہ شجرکاری کی طرف مبذول کرائیں گے اور پانی کے ضیاع سے روکیں گے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دینی و دنیاوی علوم دونوں اہم ہیں، قرآنی آیات میں تمام علوم بشمول سائنس و ٹیکنالوجی کا احاطہ ہے، ہم آج کی نشست میں اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ نہ صرف اپنے بچوں کو حتی الوسع دونوں علوم سے بہرہ ور کریں گے بلکہ عوام الناس میں اس حوالے سے شعورو آگاہی پیدا کریں گے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ماں بچے کی صحت صحت مند خاندان اور صحت مند معاشرہ کی ضمانت ہے، مناسب احتیاطی و حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نہ صرف اسلام میں اجازت ہے بلکہ مطلوب و ممدوح بھی ہے، ہم جمعے کے خطبات اور دیگر انفرادی محافل میں عوام الناس کو اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں گے، کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کے قوانین کی پاسداری میں مضمر ہوتا ہے، ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ خود بھی قوانین کی پاسداری کریں گے اور عوام الناس کو بھی اس کی ترغیب دیں گے۔ قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے معاشرتی اصلاح میں علمائے کرام کے کردار کے عنوان سے فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے علماءکرام پر زور دیا کہ وہ عوام کو سماجی مسائل سے آگاہی کیلئے مساجد میں اپنے خطبات کے ذریعے فعال کردار ادا کریں۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام فکری نشست میں صاف و سرسبز پاکستان، تعلیم، صحت، قانون اور من گھڑت خبروں کے موضوعات پر غور کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک کی 9 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے اس کے علاج کا خرچہ تقریباً 3.2 ارب ڈالر بنتا ہے، زچہ و بچہ خوراک کی کمی کا شکار ہیں، 40 فیصد بچے دماغی صلاحیت میں کمی، پولیو، پیدائش میں وقفہ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں بچے کو دوسال ماں کا دودھ پلانے کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں گلوبل وارمنگ، پانی کی قلت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، درخت لگانا اور پانی کا ضیاع روکنا، بجلی کی بچت اور تعلیم بالغاں جیسے چیلنجز سے نمٹنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے حالانکہ اس حوالے سے قرآن پاک میں بھی واضح احکامات دیئے گئے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، حضور اکرم نے انسانیت کی خدمت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ قرآن پاک میں اچھی یا بری خبر کی تصدیق کا حکم دیا گیا ہے، بھارتی انتخابات کے موقع پر وٹس ایپ پر 84 فیصد خبریں جھوٹی تھیں، جھوٹی خبروں کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کا خطرہ دنیا بھر میں بڑھ گیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو اجتماعی کوششیں کرنا ہونگی۔ علمائے کرام نے ماضی اور حال میں سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام اور مساجد ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان قوم کو اٹھانے کیلئے کوشاں ہیں اور قوم اٹھنے کیلئے تیار ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا کے انسانیت کا درس دینے والے ممالک مہاجرین کو پناہ دینے سے انکاری ہیں لیکن پاکستان نے 51 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے دوران انہیں بتایا کہ کسی بھی پاکستانی نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی مخالفت نہیں کی، ہم نے دہشت گردی اور فرقہ واریت کا متحد ہو کر مقابلہ کیا، ہمارا اتحاد قوم بننے کا راستہ ہے، مسلمانوں کو طہارت اور پاکیزگی کی بار بار تاکید کی گئی، صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کروناوائرس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کیلئے ہمیں احتیاط کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام کو قوم سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن ہتھیاروں کے خطرات سے متعلق من گھڑت خبروں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہمیں قوم سازی کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا، علمائے کرام معاشرے کو درپش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کریں۔ بعد ازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فکری نشست کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کیلئے علماءکرام آگاہی مہم میں بھرپور حصہ لینے کے ساتھ ساتھ ممبرو محراب سے بھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر گاہے بگاہے روشنی ڈالتے رہیں تاکہ معاشرے اور نئی نسل کی بہتری کیلئے ہر سطح پر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی مسائل کے حل کیلئے علمائے کرام کی مشاورت سے نیشنل ایکشن پلان وضع کرنے کیلئے کوشاں ہیں، سماجی مسائل سے متعلق علمائے کرام کے بیانیہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام صوبوں اور وفاقی حکومت کی مشاورت سے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ علماءکرام، صحت، تعلیم، سرسبز و شاداب پاکستان اور جعلی خبروں کے پھیلاﺅ سے متعلق عوام میں سماجی شعور پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ وفاقی وزیر برائے پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت شفقت محمود نے کہا کہ مدارس سمیت ملک کے تمام تعلیمی اداروں کیلئے یکساں نصاب تعلیم وضع کر رہے ہیں، اپریل 2021ءمیں ملک بھر کے تمام پرائمری سکولوں میں یکساں نصاب رائج کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے اور شرح خواندگی میں اضافہ کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 100 مدارس میں ہنر کی تعلیم دی جائے گی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ شجرکاری موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا واحد حل ہے، موجودہ حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے، ملک کو درپیش ماحولیاتی مسائل سے عوام کی شمولیت ہی سے نمٹا جا سکتاہے، حکومت اس حوالے سے پانچ نکاتی ایجنڈا پر عمل پیرا ہے۔ گھر کی طرح گلیوں اور سڑکوں کو صاف رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حقوق و فرائض میں توازن لائے بغیر کوئی ملک اور قوم ترقی نہیں کر سکتی، میڈیا کی طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا دور حاضر کی ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہتان تراشی، الزام تراشی، بے بنیاد اور من گھڑت الزامات سے معاشرہ تباہی کا شکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور موجودہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں آگاہی پیدا کرنے میں علمائے کرام کا اہم کردار ہے، انسداد پولیو سے متعلق علمائے کرام کی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ علمائے کرام متعدی امراض کرونا وائرس، خاندانی منصوبہ بندی جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اصولوں پر مبنی ریاست اور نظام کا قیام وزیراعظم کا وژن ہے، حکومت نے خواتین کو وراثتی حقوق سے متعلق قانون سازی کی ہے۔ حکومت بچوں کو درپیش مسائل سے متعلق قوانین میں ترمیم کر رہی ہے اور نئے قوانین بنا رہی ہے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے کہا کہ علمائے کرام تعلیم، صحت سمیت دیگر چیلنجز سے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ شریعت نے غیر تصدیق شدہ اطلاعات پھیلانے سے منع کیا ہے۔ علمائے کرام اپنے خطبات اور درس قرآن میں سماجی مسائل سے متعلق آگاہی پیدا کریں۔








