عوامی مقصد کے لئے حاصل کی گئی زمین کو ہاؤسنگ سکیم یا تجارتی منصوبے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ،وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت عوامی مقصد کے لئے حاصل کی گئی زمین کو حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی دوسرے مقصد، خصوصاً نجی یا تجارتی استعمال یا ہاؤسنگ سکیم میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد۔8جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت عوامی مقصد کے لئے حاصل کی گئی زمین کو حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی دوسرے مقصد، خصوصاً نجی یا تجارتی استعمال یا ہاؤسنگ سکیم میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی نیلامی کے ذریعے زمین خریدنے والا بھی اصل کمپنی پر عائد تمام قانونی اور معاہداتی پابندیوں کا پابند رہتا ہے اور اسے زمین کے استعمال کی نوعیت تبدیل کرنے کا مطلق حق حاصل نہیں ہوتا۔چیف جسٹس وفاقی آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 39 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں ایم/ایس عادل انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے قرار دیا کہ ریاست جب عوامی مفاد کے تحت کسی شخص کی زمین حاصل کرتی ہے تو اس حصول کی آئینی بنیاد صرف وہی عوامی مقصد ہوتا ہے جس کے لئے زمین لی گئی ہو۔ اگر بعد میں اس زمین کو کسی نجی یا تجارتی مقصد کے لئے استعمال کیا جائے تو زمین کے حصول کا آئینی جواز ہی متاثر ہو جاتا ہے۔ فیصلے کے مطابق نوشہرہ میں واقع 1020 کنال 19 مرلہ اراضی 1954 میں بورڈ اینڈ پیپر ملز کے قیام کے لئے حاصل کی گئی تھی۔

بعد ازاں ملز بند ہو گئیں اور ان کے اثاثے بینکنگ کورٹ کے حکم پر عوامی نیلامی میں فروخت ہوئے جہاں درخواست گزار کمپنی نے یہ اثاثے خرید لئے۔ کمپنی نے بعد میں فیکٹری مسمار کرکے اس جگہ ہاؤسنگ سکیم قائم کرنے کی کوشش کی تاہم متعلقہ حکام نے زمین کے استعمال میں تبدیلی اور پلاٹوں کی رجسٹریشن سے انکار کر دیا جس پر دائر آئینی درخواست پشاور ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالتی نیلامی کے ذریعے ملکیت منتقل ہونے سے زمین کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ نیا خریدار صرف وہی حقوق حاصل کرتا ہے جو اصل کمپنی کو حاصل تھے اور وہ بھی انہی قانونی اور معاہداتی شرائط کا پابند ہوتا ہے جو زمین کے حصول کے وقت عائد کی گئی تھیں۔عدالت نے قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 41 کے تحت حکومت اور اصل کمپنی کے درمیان ہونے والا معاہدہ قانونی حیثیت رکھتا ہے جس کے مطابق زمین صرف بورڈ اور پیپر ملز کے قیام اور آپریشن کے لئے استعمال کی جا سکتی تھی۔ اسی طرح دفعہ 43-اے کے تحت ایسی زمین کی فروخت، لیز، رہن، منتقلی یا استعمال میں تبدیلی صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی مقصد کے لئے حاصل کی گئی زمین عام نجی جائیداد کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اس پر عوامی مفاد کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے۔

اس لئے ایسی زمین کو نجی مفادات یا تجارتی فائدے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دینا لینڈ ایکوزیشن کے قانونی ڈھانچے اور آئین کے آرٹیکل 24 کے منافی ہوگا۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین شہریوں کو جائیداد رکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے تاہم ریاست صرف عوامی مفاد اور قانون کے مطابق ہی کسی شخص کی جائیداد حاصل کر سکتی ہے۔ لہٰذا جب وہ عوامی مقصد ختم ہو جائے یا زمین اس مقصد کے برعکس استعمال ہونے لگے تو حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔فیصلے میں اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا گیا کہ اسلام میں نجی ملکیت کو تحفظ حاصل ہے اور کسی کی جائیداد کو ناجائز طور پر استعمال یا ہڑپ کرنا ممنوع ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شریعت کے اصول بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ عوامی مقصد کے لئے حاصل کی گئی زمین کو نجی تجارتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ زیرِ بحث اراضی خاص طور پر بورڈ اور پیپر ملز کے قیام کے لئے حاصل کی گئی تھی، اس لئے درخواست گزار کمپنی اسے ہاؤسنگ سکیم میں تبدیل کرنے کا کوئی قانونی، مطلق یا ناقابلِ تنسیخ حق ثابت نہیں کر سکی۔

عدالت نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت یہ سمجھے کہ زمین اصل مقصد کے لئے مزید درکار نہیں یا اس کا استعمال مقصد کے خلاف ہو رہا ہے تو وہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 اور 16 اکتوبر 1954 کے معاہدے کے مطابق کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔عدالت نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی قانونی، آئینی یا دائرہ اختیار سے متعلق کوئی خامی موجود نہیں، اس لئے درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

C:zah-tca/P:zah/L:mhn/R:mhn