ابوظہبی۔7نومبر (اے پی پی):یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی ’’ڈیپ فیک‘‘ ویڈیوز اور آڈیو کلپس سے محتاط رہیں، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی لیکن گمراہ کن مواد تخلیق کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ امارات نیوز ایجنسی وام کے مطابق یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے وضاحت کی کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی …
عوام مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی ’’ڈیپ فیک‘‘ویڈیوز اور آڈیو کلپس سے محتاط رہیں، یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل
ابوظہبی۔7نومبر (اے پی پی):یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جانے والی ’’ڈیپ فیک‘‘ ویڈیوز اور آڈیو کلپس سے محتاط رہیں، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی لیکن گمراہ کن مواد تخلیق کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
امارات نیوز ایجنسی وام کے مطابق یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے وضاحت کی کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور جدید اے آئی ٹولز کی مدد سے کسی بھی شخص کی آواز اور چہرے کی درست نقل تیار کی جا سکتی ہے، جس سے حقیقی اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کا مواد ناظرین کو آسانی سے دھوکہ دے سکتا ہے اور غلط یا نقصان دہ معلومات پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
کونسل نے عوام پر زور دیا کہ ڈیجیٹل مواد دیکھتے یا شیئر کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور مشکوک یا غیر مصدقہ ویڈیوز و آڈیوز کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔ خاص طور پر ان مواد کی تصدیق ضرور کریں جو کسی عوامی شخصیت یا سرکاری ادارے سے منسوب ہوں اور انہیں صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے ہی چیک کریں۔سائبر سکیورٹی کونسل نے زور دیا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے خطرات سے متعلق عوامی آگاہی ہی پہلی دفاعی لائن ہے،
جو ڈیجیٹل غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکتی ہے اور امارات کے قومی علامتوں اور سرکاری اداروں کی ساکھ کے تحفظ میں مدد دیتی ہے۔کونسل نے مزید کہا کہ وفاقی فرمانی قانون نمبر (34) سال 2021 کے تحت افواہیں پھیلانے، سائبر جرائم یا جعلی خبریں بنانے اور شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی سزائیں مقرر ہیں، تاکہ معاشرے کو آن لائن فراڈ، غلط معلومات اور ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔








