عیدالفطر کے دوران فول پروف سکیورٹی اور بہترین ٹریفک مینجمنٹ کی بدولت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ،ڈی پی او مری

مری/راولپنڈی۔24مارچ (اے پی پی):مری میں عید الفطر کے تینوں ایام میں مجموعی طور پر 74 ہزار 196 گاڑیاں کے ذریعے تقریباً پونے 4 لاکھ سیاحوں اور مقامی افراد نے مری کا رخ کیا اور فول پروف سکیورٹی اور بہترین ٹریفک مینجمنٹ کی بدولت کہیں بھی سیاحوں کے پھنسنے یا طویل ٹریفک جام کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ڈی پی او مری ڈاکٹر محمدرضا تنویر نے بتایا ہے کہ عید کے …

مری/راولپنڈی۔24مارچ (اے پی پی):مری میں عید الفطر کے تینوں ایام میں مجموعی طور پر 74 ہزار 196 گاڑیاں کے ذریعے تقریباً پونے 4 لاکھ سیاحوں اور مقامی افراد نے مری کا رخ کیا اور فول پروف سکیورٹی اور بہترین ٹریفک مینجمنٹ کی بدولت کہیں بھی سیاحوں کے پھنسنے یا طویل ٹریفک جام کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ڈی پی او مری ڈاکٹر محمدرضا تنویر نے بتایا ہے کہ عید کے تینوں دن مری میں 17,582 جبکہ مری شہر کی حدود میں 15,728 گاڑیوں کے حامل سیاحوں نے قیام کیا، بقیہ گاڑیاں گلیات کی سیر کے بعد واپس روانہ ہوئیں۔ عید کے تیسرے روز شہر کی طرف نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں 29,588 گاڑیاں داخل اور 26,964 خارج ہوئیں، جس کے بعد شہر کے اندر 8,659 گاڑیوں کا اسٹے رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں گاڑیوں کی آمد میں 48.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو ٹریفک پر مسلسل کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔ڈی پی او مری نے بتایا کہ عید کے دوسرے دن مری میں 27,099 گاڑیاں داخل اور 19,734 خارج ہوئیں، جس سے شہر میں 5,429 گاڑیاں موجود رہیں۔ اسی طرح پہلے دن مری میں 17,716 گاڑیاں داخل اور 10,038 خارج ہوئیں جبکہ شہر کے اندر 1,640 گاڑیوں کا قیام رہا۔ ڈی پی او مری نے بتایا کہ مری پولیس اور ٹریفک کی تمام نفری الرٹ رہی، جس کے نتیجے میں ٹول پلازوں پر سخت مانیٹرنگ اور فیلڈ افسران کی مسلسل پٹرولنگ سے نظم و ضبط برقرار رہا۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر دوسرے دن 376 اور تیسرے دن 506 چالان کیے گئے۔ڈی پی او مری نے کہا کہ تمام سیاحوں بلخصوص خواتین سیاحوں کے تحفظ کے لیے مال روڈ اور بڑے سیاحتی مقامات پر اینٹی ہراسمنٹ ٹیمیں اور سہولتی یونٹس تعینات رہے، جنہوں نے سیاحوں کی مسلسل رہنمائی کی۔ عید کے دوران مجموعی صورتحال مکمل طور پر پرامن رہی اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ موثر ہم آہنگی اور پیشگی تعیناتی کی بدولت مری میں امن و امان اور ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنایا گیا۔

مزید خبریں