غذائی تحفظ کے معیار کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون کو ناگزیر ہے ،عالمی یومِ تحفظِ غذا پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام

غذائی تحفظ کے معیار کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون کو ناگزیر ہے ،عالمی یومِ تحفظِ غذا پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام

اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نےغذائی تحفظ کے معیار کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے غذائی تحفظ کے معیارات پر عملدرآمد کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

اتوار کو منائے جانے والے عالمی یومِ تحفظِ غذا پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ عالمی یومِ تحفظِ غذا پر، وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر عوامی صحت، غذائی تحفظ اور عمومی ترقی کے لیے، محفوظ غذا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عالمی دن، اقوامِ متحدہ کی جانب سے 2018 میں اجراء کے بعد سے، خوراک و زراعت کی تنظیم ( ایف اے او ) اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او ) کے اشتراک سے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں غذائی تحفظ کے حوالے سے آگاہی اور عملی اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔ صدر مملکت نے کہا کہ رواں سال کا موضوع ’’دباؤ سے حل کی جانب ۔۔۔ ہر جگہ محفوظ غذا‘‘ ہے، جو غذائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں کمی اور غذائی تحفظ کے بہتر نتائج کے حصول کے لیے سائنس، اعداد و شمار اور شواہد پر مبنی اقدامات کی اہمیت کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ عوام کو صحت کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے فیصلے اور عملی حل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر خاندان یہ توقع رکھتا ہے کہ بازار سے خریدی گئی، ریستورانوں میں پیش کی جانے والی، تعلیمی اداروں میں تیار ہونے والی یا گھروں میں استعمال کی جانے والی خوراک محفوظ اور صحت بخش ہو گی۔ جب غذائی تحفظ کے معیارات پر عمل نہیں کیا جاتا تو اس کے نتیجے میں بیماریوں کا پھیلاؤ، آمدنی میں کمی، علاج معالجے کے اضافی اخراجات اور تعلیم و روزگار میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے صارفین کو ان خطرات سے محفوظ رکھنا نہ صرف عوامی صحت کی ذمہ داری بلکہ عوامی اعتماد کا تقاضا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ غذا کی فراہمی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں، پیداوار کنندگان، پروسیسرز، ٹرانسپورٹرز، خوراک سے وابستہ کارکنوں اور صارفین کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ محفوظ غذا صحت کے تحفظ، صارفین کے اعتماد میں اضافے، روزگار کے استحکام اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ بالخصوص بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور بزرگ افراد میں غذائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج کے ایک مربوط غذائی نظام میں، مؤثر غذائی تحفظ کے اقدامات سائنس، شفافیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ معائنہ جاتی نظام، تجربہ گاہوں کی استعداد، خوراک کی نگرانی کے مؤثر طریقہ کار اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو مضبوط بنانا عوامی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ غذائی تحفظ کے معیار کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ تحفظِ غذا ترقی، عوامی صحت اور تجارت میں غذائی تحفظ کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ غذائی تحفظ کے بنیادی ڈھانچے، آگاہی پروگراموں اور جدید ریگولیٹری نظام میں سرمایہ کاری ایک مضبوط غذائی نظام کی تشکیل کے ساتھ ساتھ صارفین کے تحفظ کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ خوراک کے سلسلۂ فراہمی میں محفوظ غذائی طریقوں کو فروغ دیں اور غذائی تحفظ کے معیارات پر عملدرآمد کو مضبوط بنائیں۔ مشترکہ ذمہ داری، باخبر اقدامات اور مستقل عزم کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر فرد کو محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور معیاری خوراک میسر ہو