غزہ میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ، نفسیاتی مشاورت کی ضرورت بڑھ گئی، اقوام متحدہ

غزہ میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ، نفسیاتی مشاورت کی ضرورت بڑھ گئی، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔13مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق ادارے اوسی ایچ اے اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)ے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری حالات کے باعث نفسیاتی اور ذہنی صحت سے متعلق خدمات کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔شنہوا کے مطابق ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں ان کے شراکت دار اداروں کی جانب سے چلائی جانے والی ٹول فری ہیلپ لائن پر مارچ سے اپریل کے دوران آن لائن مشاورتی سیشنز میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور صرف اپریل میں 9,600 سے زائد مشاورتیں فراہم کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق خودکشی کے خیالات سے متعلق کیسز میں 90 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ گھریلو و صنفی تشدد سے متعلق مشاورت میں 46 فیصد اور بے چینی و خوف سے متعلق کیسز میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ اوکے اندازے کے مطابق غزہ میں 43,000 سے زائد افراد ایسے زخمی ہوئے ہیں جنہیں زندگی بھر معذوری یا شدید طبی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں ریڑھ کی ہڈی کے زخم، دماغی چوٹیں، شدید جھلسنے کے واقعات اور اعضا کا کٹ جانا شامل ہے۔

ادارے کے مطابق ان زخمیوں میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شامل ہے، جبکہ تقریباً 53,000 افراد کو طویل مدتی بحالی کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ستمبر 2025 کے بعد بحالی کی خدمات میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم مجموعی صلاحیت اب بھی اکتوبر 2023 سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

اس وقت کوئی بھی بحالی مرکز مکمل طور پر فعال نہیں ہے اور 400 سے زائد مریض خصوصی علاج کے منتظر ہیں۔اوسی ایچ اے نے کہاکہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں قلقیلیہ کے علاقے عرب الخولی کی ایک بے گھر کمیونٹی کی املاک کو مسمار کیا گیا، جو پہلے 20 سے زائد خاندانوں پر مشتمل تھی۔رپورٹ کے مطابق 2023 کے بعد سے اب تک 45 فلسطینی کمیونٹیز مکمل طور پر نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہیں، جبکہ زیادہ تر بے دخلیاں یہودی آبادکاروں کے حملوں اور پابندیوں کے باعث ہوئیں۔

مزید خبریں