غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،او آئی سی غزہ میں فوری و غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی،بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اورجبری بے دخلی رکوانے اور غیر قانونی بستیاں ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرے ،اسحاق ڈارخطاب

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے،انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے،غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،او آئی سی غزہ میں فوری و غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی،بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اورجبری بے دخلی رکوانے اور غیر …

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے،انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے،غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،او آئی سی غزہ میں فوری و غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی،بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اورجبری بے دخلی رکوانے اور غیر قانونی بستیاں ختم کرانے کیلئے کردار ادا کرے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو او آئی سی کی فلسطین سے متعلق 6 رکنی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہہ نے کی، جس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندگان نے شرکت کی۔نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین او آئی سی کے کے ایجنڈے کا مرکز ہے، اکتوبر 2023 ءسے اب تک غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 94 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، امدادی قافلوں اور پناہ گاہوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اس صورتحال کو "ممکنہ نسل کشی” قرار دے چکی ہے، تاہم سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور آئی سی جے کے بارہا مطالبات کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی سے انکار کیا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی سزا، بمباری، جبری بے دخلی، بھوک اور انسانی امداد کی روک تھام کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ او آئی سی کو ان نکات پر فوری اقدام اٹھانا ہوگا جن میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی،بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور یو این آر ڈبلیو اے کے لئے عالمی تعاون میں اضافہ،جبری بے دخلی رکوانے اور غیر قانونی بستیوں کا خاتمہ،1967 کے بعد قبضے میں لی گئی زمینوں اور اثاثوں کی واپسی،بے دخل فلسطینیوں کے حقِ واپسی کی ضمانت،قابض افواج کی جنگی جرائم پر جوابدہی اور نقصانات کا ازالہ،آئی سی جے کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد،غزہ کے لئے او آئی سی اور عرب دنیا کے تعمیرِ نو منصوبے پر عملدرآمد،فلسطینی عوام کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی حفاظتی نظام کی تعیناتی،1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانااور فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے لئے کوششوں میں تیزی لانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025-2026 کے لئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننے کے بعد پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطینی عوام کے لئے انصاف کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہےاور جب انصاف نسل در نسل نہ ملے تو امن کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ فلسطینی عوام کو آزادی، خود ارادیت اور ریاستی وقار دیا جانا ناگزیر ہے۔

مزید خبریں