غیر قانونی افغان دراندازی خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں افغان طالبان کے زیرِ اثر سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کی سرحد پار نقل و حرکت خطے کے ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی برادری کو اب افغان سرزمین سے پھیلتی بے مہار دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ایرانی جریدے ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں افغان باشندوں کی غیر …

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں افغان طالبان کے زیرِ اثر سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کی سرحد پار نقل و حرکت خطے کے ممالک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی برادری کو اب افغان سرزمین سے پھیلتی بے مہار دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ایرانی جریدے ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں افغان باشندوں کی غیر قانونی سرحدی دراندازی کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد افغان شہری غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ایرانی سرحد پر ہلاک ہوئے۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق ہلاک ہونے والے 15 افغان مہاجرین کی لاشیں کوہسان اور اَدرَسکن اضلاع منتقل کی گئیں جبکہ ایرانی میڈیا نے ایران۔افغانستان سرحد پر مجموعی طور پر 40 ہلاکتوں اور متعدد مہاجرین کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی دی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان باشندے اسلام قلعہ کے راستے غیر قانونی طور پر ایرانی علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک سینئر ایرانی سرحدی کمانڈر کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر تک ایران میں غیر قانونی داخلے کی افغان کوششوں میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 16 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اور پناہ گزینوں کو ایران سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔ مزید برآں، ایرانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک 12 روزہ تنازعے کے دوران متعدد افغان شہری اسرائیل کے لیے جاسوسی میں ملوث پائے گئے۔عالمی نشریاتی ادارے کیسپین نیوز کے مطابق افغان سرحد سے بڑھتے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر ایران نے رواں سال 300 کلومیٹر طویل سرحدی باڑ مکمل کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان سرزمین میں موجود منظم دہشتگرد نیٹ ورکس نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا بھر میں عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں۔اس ضمن میں پاکستان متعدد بار افغان سرزمین کو دہشتگرد نیٹ ورکس کی دراندازی کے لیے استعمال کیے جانے کے ناقابلِ تردید شواہد عالمی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔