اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):اے سی ٹی الائنس پاکستان نے کسٹمز کے ان بہادر افسران کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جنہوں نے ملکی معیشت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے سی ٹی الائنس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے کہا کہ پاکستان کسٹمز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مرد و خواتین اہلکار ملک کی معاشی …
غیر قانونی تجارت، ٹیکس چوری اور سمگلنگ سے ملک کو ہرسال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے،ایسے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔مبشراکرم

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اکتوبر (اے پی پی):اے سی ٹی الائنس پاکستان نے کسٹمز کے ان بہادر افسران کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جنہوں نے ملکی معیشت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے سی ٹی الائنس پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر مبشر اکرم نے کہا کہ پاکستان کسٹمز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مرد و خواتین اہلکار ملک کی معاشی سلامتی کیلئے فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہادر افیسرز صرف روایتی فرائض انجام نہیں دے رہے بلکہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی معیشت کا دفاع کر رہے ہیں جو غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور ٹیکس چوری پر انحصار کرتے ہیں۔مبشر اکرم نے کہا کہ جب کوئی کسٹمز افسر انسدادِ اسمگلنگ کارروائی میں شہید ہوتا ہے تو یہ صرف ادارے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے انسدادِ اسمگلنگ آپریشنز میں ملوث فیلڈ افسران کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں غیر قانونی تجارت عروج پر ہے جیسے کہ مشروبات، سگریٹ، چائے اور الیکٹرانکس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ میں ملوث افراد نہ صرف تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ وہ پاکستان کی خودمختاری کو بھی چیلنج کر رہے ہیں اور اس کے معاشی مستقبل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ چھوٹے موٹے جرائم نہیں بلکہ ریاست اور قانون کی عملداری پر حملے ہیں۔مبشر اکرم نے پاکستان بزنس کونسل کی 2023 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو ہر سال 19,000 ارب روپے سے زائد کا نقصان غیر قانونی تجارت، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہوشربا نقصان ایک سنگین اور جڑوں میں پیوست چیلنج کی عکاسی کرتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کوئی بھی ملک کس طرح معاشی بحالی حاصل کر سکتا ہے یا سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا ہے جب ہر سال کھربوں روپے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں؟ ہمیں اسے ایک معاشی ایمرجنسی سمجھنا ہوگا۔مبشر اکرم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اے سی ٹی الائنس پاکستان، غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کے خلاف کام کرنے والے تمام ریاستی اداروں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اس بات سے مشروط ہے کہ ہم متوازی معیشت کا خاتمہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ہر روپیہ جو کمایا جائے، تجارت میں آئے یا ٹیکس کی صورت میں وصول ہو، وہ صرف قوم اور اس کے عوام کی خدمت میں استعمال ہو۔








