غیر قانونی ہتھیاروں کی آمد کے ہیٹی کے عوام اور وہاں بین الاقوامی فورسز کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے ، چین
غیر قانونی ہتھیاروں کی آمد کے ہیٹی کے عوام اور وہاں بین الاقوامی فورسز کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے ، چین

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔15اکتوبر (اے پی پی):چین نے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں کی آمد روکنے کے لیے موثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ بیرونِ ملک سے بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود حاصل کر رہے ہیں جو ہیٹی کے عوام اور وہاں تعینات بین الاقوامی فورسز کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ بات گزشتہ روز اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لئی نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ صرف پابندیوں کا نظام نافذ ہونے سے ہیٹی میں سکیورٹی کی صورتحال خودبخود بہتر نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو پابندیوں پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کی صورتحال بدستور انتہائی تشویش ناک ہے، ہیٹی میں جرائم پیشہ گروہ بیرونِ ملک سے بڑی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود حاصل کر رہے ہیں، جو ہیٹی کے عوام اور وہاں تعینات بین الاقوامی فورسز کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے رکن ممالک، بالخصوص اس ملک سے، جہاں سے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑی مقدار پہنچتی ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلحے کی سمگلنگ کو اس کے منبع پر روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔ چینی نمائندہ نے کہا کہ ہیٹی کے بحران پر قابو پانے کے لیے خود ملک کی سیاسی قیادت کی خواہش اور ٹھوس کوششیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہیٹی کی تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد مضبوط بنانا چاہیے اور ایسا سیاسی عمل موثر انداز میں آگے بڑھانا چاہیے جس کی قیادت بھی ہیٹی کے اپنے لوگ کریں اور جس کی ملکیت بھی انہی کے پاس ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے حکام کو امن و امان کو برقرار رکھنے، حکومتی نظام مضبوط بنانے، بدعنوانی اور مجرموں کو سزا سے بچ نکلنے کی روش کے خاتمے اور تشدد کو فروغ دینے والے عوامل کے سدباب کی بنیادی ذمہ داری حقیقی معنوں میں خود سنبھالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر ہیٹی کے عوام کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ جلد بحران سے نکلنے کا مناسب راستہ تلاش کر سکیں۔ یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ہیٹی پر عائد پابندیوں کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔







