غیر ملکی تربیت پولیس افسران کی ٹریننگ کا لازمی حصہ، لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سنٹر کے قیام کے لیے پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیر ملکی تربیت کو پولیس افسران کی ٹریننگ کا لازمی حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید پولیسنگ کے کامیاب ماڈلز اور جدید ٹیکنالوجی سے مکمل استفادہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیر ملکی تربیت کو پولیس افسران کی ٹریننگ کا لازمی حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید پولیسنگ کے کامیاب ماڈلز اور جدید ٹیکنالوجی سے مکمل استفادہ کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں چین اور ترکیہ سے تربیتی کورس مکمل کر کے واپس آنے والے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر اعلیٰ متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران اے ایس پیز نے چین اور ترکیہ کے جدید پولیسنگ، سرویلنس سسٹمز اور امن و امان کے انتظام سے متعلق اپنے مشاہدات سے وزیر داخلہ کو آگاہ کیا اور ان کورسز کو پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ایک بہترین تجربہ قرار دیا۔وزیر داخلہ نے غیر ملکی تربیتی پروگرامز کو پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کا مستقل حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں چین کی طرز پر ‘لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سنٹر’ کے قیام کے لیے پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنٹر میں ڈیٹنشن، انویسٹی گیشن اور سمری ٹرائل ایک ہی چھت تلے ہوگا تاکہ معمولی نوعیت کے جرائم کے مقدمات کا فوری اور مؤثر تصفیہ ممکن بنایا جا سکے۔

محسن نقوی نے کہا کہ جرائم کی روک تھام اور مؤثر نگرانی کے لیے وزارت داخلہ کے ایوی ایشن ونگ میں جدید ڈرونز شامل کیے جائیں گے اور جدید سرویلنس سسٹمز کے ذریعے نگرانی کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں سپیشلائزڈ انویسٹی گیشن رومز قائم کیے جائیں گے جبکہ انٹیروگیشن (تفتیش) کو بطور سپیشلائزڈ سبجیکٹ متعارف کراتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز پر جدید تکنیکس تربیت کا حصہ بنائی جائیں گی، اس کے علاوہ پولیس کی آپریشنل ضروریات سے ہم آہنگ نیا یونیفارم بھی متعارف کرایا جائے گا۔

مزید خبریں