غیر ملکی عدالت کے فیصلے کے بعد بچے کی تحویل کے تنازع پر پاکستانی عدالتیں ہیگ کنونشن کے اصول مدنظر رکھیں، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مختلف ممالک کی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان کمسن بچے کی تحویل کے تنازعہ میں عدالتوں کو اس ریاست کی عدالت کے دائرہ اختیار اور فیصلے کو مدنظر رکھنا ہوگا جہاں بچہ اپنی معمول کی رہائش رکھتا تھا،

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مختلف ممالک کی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان کمسن بچے کی تحویل کے تنازعہ میں عدالتوں کو اس ریاست کی عدالت کے دائرہ اختیار اور فیصلے کو مدنظر رکھنا ہوگا جہاں بچہ اپنی معمول کی رہائش رکھتا تھا، جبکہ بچے کو غلط طور پر ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کیے جانے کی صورت میں ہیگ کنونشن برائے سول پہلوؤں سے متعلق بین الاقوامی اغواءِ اطفال 1980 کے اصولوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان برچ پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے محمد فراز شیخ اور ایک دوسرے کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا 16 مارچ 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا ۔ عدالت نے قرار دیا کہ بچے کی تحویل کے معاملات میں عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ غیر ملکی عدالت نے کس دائرہ اختیار کے تحت فیصلہ دیا، فیصلہ میرٹ پر ہوا یا نہیں، پاکستان کے قانون کو تسلیم کیا گیا یا نہیں اور فیصلہ دھوکے یا انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں تو حاصل نہیں کیا گیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کی منتقلی اس وقت غلط تصور ہوگی جب وہ اس ریاست کے قانون، عدالتی یا انتظامی فیصلے یا قانونی معاہدے کی خلاف ورزی ہو جہاں بچہ منتقلی سے قبل معمول کے مطابق مقیم تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اگر بچہ کسی دوسرے ملک منتقل کیا گیا ہو تو، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ بچہ نئے ماحول میں آباد ہوچکا ہے، اسے اس ریاست واپس بھیجنے کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا جہاں وہ معمول کے مطابق مقیم تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ بچے کی واپسی کے معاملے کا فیصلہ بچے کی مستقل تحویل کے حق کا حتمی تعین نہیں سمجھا جائے گا، جبکہ بچے کی غلط منتقلی یا روکے جانے سے متعلق اطلاع ملنے کے بعد عدالتیں واپسی کے معاملے کا فیصلہ ہونے تک تحویل کے اصل حق کے میرٹ پر فیصلہ نہیں کریں گی۔فیصلے کے مطابق موجودہ مقدمے میں کمسن بچہ امریکی شہری ہے اور والدین بھی امریکا میں مقیم رہے ہیں۔ والدین کی علیحدگی کے بعد بچے کی تحویل کا معاملہ امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کی عدالت میں زیر سماعت رہا، جس نے بالآخر 9 جون 2023 کو بچے کی تحویل والد کے حق میں قرار دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ کراچی کی گارڈین کورٹ نے 18 جنوری 2024 کو غیر ملکی عدالت کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کو امریکی قونصل خانے کے ذریعے والد کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف دائر اپیل بعد ازاں واپس لے لی گئی اور یہ حکم حتمی حیثیت اختیار کرگیا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے ان اہم قانونی پہلوؤں کو زیر غور نہیں لایا اور ایسے حکم کو واپس لے لیا جس پر پہلے ہی عملدرآمد ہوچکا تھا، لہٰذا ہائیکورٹ کا 16 مارچ 2026 کا حکم برقرار نہیں رکھا جاسکتا ۔ عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا اور سندھ ہائیکورٹ کا متنازع حکم کالعدم قرار دے دیا۔