فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے سربراہان کا غزہ میں امداد کی بلارکاوٹ ترسیل کا مطالبہ

پیرس۔26جولائی (اے پی پی):فرانس،برطانیہ اور جرمنی کے سربراہان نے اسرائیل سے غزہ میں انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون ، برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور جرمن چانسلر فریڈریش میرس کے درمیان رابطے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا گیاجس میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کے لیے ضروری انسانی امداد کا روکے جانا ناقابل قبول …

پیرس۔26جولائی (اے پی پی):فرانس،برطانیہ اور جرمنی کے سربراہان نے اسرائیل سے غزہ میں انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون ، برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور جرمن چانسلر فریڈریش میرس کے درمیان رابطے کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا گیاجس میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کے لیے ضروری انسانی امداد کا روکے جانا ناقابل قبول ہے۔تین یورپی طاقتوں کے سربراہان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ انسانی تباہی کو ختم کرنے کے لیے غزہ میں بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ فوری جنگ بندی اور ایک ایسے سیاسی عمل کی حمایت کے لیے مزید اقدامات کے لیے تیار ہیں جو پورے خطے کے لیے دیرپا سلامتی اور امن کا باعث بنیں۔یورپی ممالک اگرچہ فلسطینی ریاست کی حمایت میں اصولی مؤقف رکھتے ہیں تاہم جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اعلان کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا،جبکہ فرانسیسی صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کو بھی اپوزیشن اور اپنی حکومت کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔گزشتہ روز ہاؤس آف کامنز کے 650 قانون سازوں میں سے 221 نے ایک خط پر دستخط کیے جس میں برطانوی وزیراعظم سٹارمر پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔خیال رہے کہ 140 سے زائد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں جن میں سے بارہ کے قریب یورپی ممالک ہیں لیکن فرانس سات ممالک کے گروپ میں سے یہ قدم اٹھانے والا پہلا بڑا یورپی ملک ہے۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔