اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ فریڈرک ایبرٹ فائونڈیشن نے ایک صدی سے جمہوریت، سماجی انصاف اور مکالمے کے فروغ کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ،ایف ای ایس نے پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی شمولیت اور شفاف حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل …
فریڈرک ایبرٹ فائونڈیشن نے ایک صدی سے جمہوریت، سماجی انصاف اور مکالمے کے فروغ کیلئے بے مثال کردار ادا کیا ،سینیٹر شیری رحمان

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ فریڈرک ایبرٹ فائونڈیشن نے ایک صدی سے جمہوریت، سماجی انصاف اور مکالمے کے فروغ کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ،ایف ای ایس نے پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کی شمولیت اور شفاف حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو فریڈرک ایبرٹ فائونڈیشن کے 100 سال اور ایف ای ایس پاکستان کے 35 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب میں کیا۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ فریڈرک ایبرٹ کا پیغام آج بھی زندہ ہے، جمہوریت خود بخود قائم نہیں رہتی، اسے جمہوریت پسندوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم فریڈرک ایبرٹ فائونڈیشن کے پاکستان میں 35 سالہ سفر اور اس کے عزم و لگن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جرمنی کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان تعلقات شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ولی برانٹ کے دور سے قائم ہیں، یہ دوستی مشترکہ اقدار، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے احترام پر مبنی ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی دونوں جانتے ہیں کہ جمہوریت کی بقاامن اور استحکام پر منحصر ہے، پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ بے مثال عزم اور قربانیوں سے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور اسلحہ اندوزی سے جنوبی ایشیا کا توازن خطرے میں ہے،پہلگام حملے کے بعد پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ اور تحمل پر مبنی تھا جبکہ بھارت کا رویہ اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی جنگی بیان بازی اور یکطرفہ اقدامات علاقائی امن، ماحولیاتی پائیداری اور کروڑوں لوگوں کے معاش کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان، مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جرمنی کی بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے لیے اصولی اور موثر آواز کی قدر کرتے ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں، ہم تجارت، تعلیم، ترقی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں قریبی شراکت دار ہیں، ہزاروں پاکستانی نوجوان جرمنی میں تعلیم حاصل کر کے واپس آ رہے ہیں جو اپنے ملک کے لیے علم اور تجربہ لاتے ہیں۔








