فوج حکومتی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں فوج کے ساتھ موجودہ حکومت کے شاندار تعلقات ہیں، کسی ایک ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے سے فلسطین کا مسئلہ ختم نہیں ہو گا،وزیراعظم عمران خان کا الجزیرہ کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج حکومتی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں فوج کے ساتھ موجودہ حکومت کے شاندار تعلقات ہیں، کسی ایک ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے سے فلسطین کا مسئلہ ختم نہیں ہو گا، اس مسئلے کا حل خود اسرائیل کے مفاد میں ہے، پاکستان میں میڈیا …

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج حکومتی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں فوج کے ساتھ موجودہ حکومت کے شاندار تعلقات ہیں، کسی ایک ملک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے سے فلسطین کا مسئلہ ختم نہیں ہو گا، اس مسئلے کا حل خود اسرائیل کے مفاد میں ہے، پاکستان میں میڈیا مکمل آزاد ہے یہاں تک کہ حکومت اور وزراء کو بھی اس سے تحفظ حاصل نہیں، جتنی ہماری حکومت کے خلاف میڈیا میں تنقید ہوئی ماضی میں ایسا نہیں ہوا، بعض مواقع پر تو ہمارے خلاف میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا کیا گیا، ہمارے دو سالہ دور حکومت میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ پاکستان میں ایلیٹ کلاس کو احتساب کے کٹہرے میں لایا گیا، ہمارے دور حکومت میں کرپشن کا کوئی میگا کیس سامنے نہیں آیا، نچلی سطح پر کرپشن کا اعتراف ہے تاہم اس کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی۔ جمعرات کو غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، پاکستان کو کسی کیمپ کا حصہ ہونے کی ضرورت نہیں، ہم ہر ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کیوں نہیں رکھ سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ منسلک ہے جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے 62 ارب ڈالر کی لاگت کے اقتصادی راہداری منصوبہ کی شرائط میں ترمیم کیلئے چین کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات اس وقت پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان چین کی ترقی اور لوگوں کو غربت سے نکالنے کے تجربات سے استفادہ کرے گا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چند سال قبل کی نسبت اس وقت امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترین ہیں، افغانستان میں ہم امن کے شراکت دار ہیں۔ حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان مستقبل میں اقتدار میں شراکت کے معاہدہ کی حمایت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان جو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہیں وہ ہمارے لئے بھی اچھا ہو گا، افغان امن میں افغانستان کے بعد سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 19 سالہ جنگ اور قتل و غارت کے بعد اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب اچانک ملکر رہنا شروع کر دیں گے تو میرے خیال میں یہ صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے، یہ دراصل ایک معجزہ ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے مسئلہ کے فوجی کے بجائے سیاسی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر بالخصوص بھارت افغانستان میں امن اور استحکام نہیں چاہتا۔ بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر ہے، یہ صورتحال بھارت کے ذمہ دار شہریوں کیلئے بھی پریشان کن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے بعض ممالک اپنے کاروباری مفادات کی وجہ سے بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل میں او آئی سی کے وسیع کردار کے مطالبہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس حوالے سے او آئی سی کے فعال کردار کے خواہشمند ہیں، سعودی عرب پاکستان کا ہمیشہ دوست رہے گا۔ جب وزیراعظم عمران خان سے فوج کے ساتھ ان کی حکومت کے تعلقات کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومتی پالیسیوں کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے، دونوں مکمل تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جمہوری حکومت کی پالیسیاں خواہ بھارت کے حوالے سے ہوں یا افغانستان کے پر امن حل کے حوالے سے ہوں، فوج ان پالیسیوں کے ساتھ ہے، ہر جگہ پر فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں فوج کے ساتھ تعلقات میں آسانیاں نہیں تھیں تاہم ہمارے شاندار تعلقات ہیں اور میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ یہ انتہائی بہترین تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دو سالوں میں جو سب سے بڑی تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی ایلیٹ کلاس پر ہاتھ ڈالا گیا، ہمارے اور پہلے والے پاکستان میں فرق یہ ہے کہ ہماری پالیسیوں کا مرکز صحت، تعلیم اور بہترین انصاف کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار غریب کے لئے ہیلتھ انشورنس کا اعلان کیا گیا اور آئندہ سال سے یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جا رہا ہے۔