فوسپاہ کا تاریخی فیصلہ ، خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز، تعصبانہ یا جنسی نوعیت کے جملے بھی ہراسگی قرار

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی (فوسپاہ) نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز، تعصبانہ یا جنسی نوعیت کے جملے بھی ہراسگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری کے خلاف دیا گیا جنہوں نے خواتین اساتذہ کے بارے میں کہا تھا کہ جب خواتین 35 …

اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی (فوسپاہ) نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز، تعصبانہ یا جنسی نوعیت کے جملے بھی ہراسگی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری کے خلاف دیا گیا جنہوں نے خواتین اساتذہ کے بارے میں کہا تھا کہ جب خواتین 35 سال یا اس کے بعد کی عمر میں پہنچتی ہیں تو ان میں ہارمونی تبدیلیاں آتی ہیں اور ان کا ذہنی توازن متاثر ہوتا ہے جس سے وہ دوسروں کے لیے مسئلہ بن جاتی ہیں۔فیصلے میں وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے قرار دیا کہ ایسے جملے خواتین کے لیے تضحیک آمیز، جنسی تعصب پر مبنی اور توہین آمیز ہیں جو ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں اور امتیازی رویوں کو فروغ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سربراہان پر ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنفی حساسیت کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ان کے الفاظ اور عمل تعلیمی ماحول کی سمت طے کرتے ہیں۔ فوسپاہ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ صنفی دقیانوسی تصورات سے لاعلمی کسی بھی ذمہ دار عہدیدار کو بری الذمہ نہیں کرتی، وائس چانسلر کا رویہ ہراسگی اور صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ انہوں نے خواتین کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ہارمونی تبدیلیوں سے جوڑا۔

فوسپاہ نے ڈاکٹر ضبطہ خان شنواری پر تنبیہ (Censure) کی سزا عائد کی اور یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ان کے طرز عمل پر نظر رکھے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ادارے کو مزید ہدایات دی گئیں کہ وہ قانون کے مطابق انکوائری کمیٹی تشکیل دے، ضابطہ اخلاق تمام کیمپسز میں نمایاں طور پر آویزاں کرے، عملے اور طلبہ کے لیے صنفی حساسیت کی تربیت کا باقاعدہ انتظام کرے۔ فیصلے کے آخر میں فوزیہ وقار نے واضح کیا کہ صنفی تعصب سے لاعلمی ان ادارہ جاتی سربراہان کے لیے قابل معافی نہیں جو مثال بننے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ ہراسگی صرف عمل نہیں ایک ذہنیت بھی ہے، احترام، مساوات اور حساسیت صرف قوانین سے نہیں بلکہ سوچ بدلنے سے آتی ہے۔