فیصل آباد۔ 26 نومبر (اے پی پی):باغبانوں کو گیندے کی افریقن اقسام فلفی رفلز، کلائمیکس، ییلو سپریم، انکا، فرسٹ لیڈی، جائنٹ سن سیٹ،کراؤن آف گولڈ، فرنچ اقسام کیوپڈ ییلو، فرنچ بٹر، سوتھ،بٹر بال،گولڈی،رسٹی گلو، سنو بال، گولڈن بال وغیرہ کی کاشت فوری شروع کرکے دسمبرمیں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شعبہ فلوریکلچر وہارٹیکلچرکے ماہرین گلبانی وچمن آرائی نے بتایاہے کہ یوں تو گیندے کا پودا تقریباً سارا سال ہی …
فیصل آباد،باغبانوں کو گیندے کی کاشت فوری شروع کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 26 نومبر (اے پی پی):باغبانوں کو گیندے کی افریقن اقسام فلفی رفلز، کلائمیکس، ییلو سپریم، انکا، فرسٹ لیڈی، جائنٹ سن سیٹ،کراؤن آف گولڈ، فرنچ اقسام کیوپڈ ییلو، فرنچ بٹر، سوتھ،بٹر بال،گولڈی،رسٹی گلو، سنو بال، گولڈن بال وغیرہ کی کاشت فوری شروع کرکے دسمبرمیں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شعبہ فلوریکلچر وہارٹیکلچرکے ماہرین گلبانی وچمن آرائی نے بتایاہے کہ یوں تو گیندے کا پودا تقریباً سارا سال ہی اگایاجاسکتاہے تاہم موسم سرما کے دوران اس کی دسمبر کاشت مزید بہتر پیداوار کی ضامن ہوتی ہے اور یہ 15سے30ڈگر ی سینٹی گریڈ پر زیادہ اگاؤ کاحامل ہوتاہے مگر اسے شدید کورے سے بچانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیندا ایک مفید، سخت جان اور باغیچے میں آسانی سے اگایاجانےوالا پھول ہے جس کی دنیا بھر میں 50سے زائد اقسام کاشت کی جارہی ہیں نیز گیندے کے پتے گہرے سبز، پھول سفید، گولڈن، اورنج، پیلے اور سرخ ہونے کے باعث انتہائی خوش نما محسوس کئے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ باغبان گیندے کی کاشت فرور ی و مارچ،مئی و جون، ستمبر و اکتوبر میں بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ایک ایکڑ رقبہ پر گیندے کی کاشت کےلئے 500گرام بیج استعمال کیاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشتکار بیج لگانے سے پہلے کیاریوں کو اچھی طرح تیار کرلیں اور کیاریوں کا سائز 1×3 رکھیں۔
انہوں نے کہاکہ کیاریوں میں 10کلوگرام فی مربع میٹر کے حساب سے گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالنے سے بہتر پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔








