فیصل آباد،کاشتکاروں کو بیلوں والی سبزیوں میں الگ الگ نرو مادہ پھولوں میں اختلاط نسل کا کام ہاتھ سے کرنے کی ہدایت

فیصل آباد۔ 25 ستمبر (اے پی پی):سبزیوں کے کاشتکاروں کو بیلوں والی سبزیوں میں الگ الگ نرو مادہ پھولوں میں اختلاط نسل کا کام ہاتھ سے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے مطابق چونکہ بیلوں والی سبزیوں میں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اس لئے ان میں اختلاط نسل خودبخود نہیں ہوتا لہٰذا یہ کام ہاتھ سے کرنا چاہیے …

فیصل آباد۔ 25 ستمبر (اے پی پی):سبزیوں کے کاشتکاروں کو بیلوں والی سبزیوں میں الگ الگ نرو مادہ پھولوں میں اختلاط نسل کا کام ہاتھ سے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ریسرچ انفارمیشن یونٹ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے مطابق چونکہ بیلوں والی سبزیوں میں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اس لئے ان میں اختلاط نسل خودبخود نہیں ہوتا لہٰذا یہ کام ہاتھ سے کرنا چاہیے نیز یہ عمل ٹنل کے پلاسٹک اتارنے تک جاری رکھاجاسکتاہے کیونکہ پلاسٹک اتارنے کے بعد یہ کام مکھیا ں سرانجام دیتی ہیں لیکن اگر پارتھینوکارپک اقسام کاشت کی گئی ہیں تو ان کےلئے مصنوعی زرپاشی کی ضرورت نہیں رہتی۔کاشتکار ٹنل میں کاشتہ سبزیوں کامطلوبہ درجہ حرارت برقراررکھنے کےلئے دن کے وقت ٹنل کے دروازے کچھ وقت کےلئے کھول دیں تاکہ ٹنل میں نمی اور درجہ حرارت مناسب رہے اور بیماریوں کا حملہ نہ ہو۔

انہوں نے کہاکہ دن کے وقت حاصل کردہ حرارت رات کے وقت پودوں کے کام آتا ہے اور جب درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جائے تو ٹنل کے دروازے زیادہ دیر کےلئے کھولیں کیونکہ ٹنل کے اندر نمی کی زیادتی پھپھوند والی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہوا خارج کرنے والا ایگزاسٹ فین بھی لگا دیں تاکہ نمی کو کنٹرول کیا جا سکے۔انہوں نےبتایاکہ کھیرے، گھیا کدو، چپن کدو، حلوہ کدو، گھیا توری، بینگن، خربوزے اورتربوز کےلئے ٹنل کا درجہ حرارت 18 سے 24ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ شملہ مرچ اور سبز مرچ کےلئے 21سے 24اور ٹماٹر و کریلے کی فصل کےلئے 21سے 29ڈگری سینٹی گریڈہونا چاہیے۔

مزید خبریں