فیصل آباد،کاشتکاروں کو دھان کی باقیات کو زمین میں ملاکر اس کی زرخیزی بڑھانے کی ہدایت

فیصل آباد۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ سموگ انسانی صحت،جانوروں اور فصلوں کیلئے انتہائی خطرناک ہے لہٰذاکاشتکاردھان کی باقیات کو زمین میں ملاکر اس کی زرخیزی بڑھائیں جبکہ کارخانوں سے خارج کردہ دھواں اور فصلات خصوصاً دھان کی باقیات (مڈھوں اور پرالی وغیرہ) کو آگ لگانے سے خارج ہونے والا دھواں بھی سموگ کا باعث بنتا ہے۔ ایک ملاقات …

فیصل آباد۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ سموگ انسانی صحت،جانوروں اور فصلوں کیلئے انتہائی خطرناک ہے لہٰذاکاشتکاردھان کی باقیات کو زمین میں ملاکر اس کی زرخیزی بڑھائیں جبکہ کارخانوں سے خارج کردہ دھواں اور فصلات خصوصاً دھان کی باقیات (مڈھوں اور پرالی وغیرہ) کو آگ لگانے سے خارج ہونے والا دھواں بھی سموگ کا باعث بنتا ہے۔

ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ سموگ کے نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے سموگ کو قدرتی آفت قرار دیا ہے اور اس کے تدارک اور کنٹرول کیلئے مختلف اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار اور معیار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

سموگ حفاظتی ہوائی سطح کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ گلوبل وارمنگ کی بھی وجہ بن رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے زمین میں موجود نامیاتی مادہ کم ہو جاتا ہے۔مڈھوں کو آگ لگانے سے نہ صرف زمین کی نمی کم ہوتی ہے بلکہ فائدہ مند بیکٹیریا کو بھی نقصان پہنچتاہے اور زمین میں موجود فائدہ مند کیڑوں کے انڈے اور پیو پے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

زمین کی ساخت متاثرہوتی ہے جس سے سائل ایروین جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سموگ کے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے دھان کی باقیات کو آگ لگانے پر پابندی لگا دی ہے جس کی خلاف ورزی کرنے والے کا شتکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔