گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ملاقات کی،پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر بھی ان کے ہمراہ تھے
فیصل کریم کنڈی سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی ملاقات، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے ملاقات کی،پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور ہلال احمر خیبرپختونخوا کے چیئرمین فرزند علی وزیر بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں جاری اور مجوزہ صنعتی منصوبوں، خصوصی اقتصادی زونز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔اس موقع پرگورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل،معدنیات، زرعی پیداوار اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں صنعتی ترقی کے منصوبوں،خصوصی اقتصادی زونز اور کاروباری سہولتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں سی پیک کے قریب صنعتی زون کا جلد قیام ضروری ہے جس سے پورا صوبہ مستفید ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں مقامی صنعتوں کے فروغ سے نچلی سطح پر خوشحالی کو یقینی بنانے کے لئے ملکی معیشت میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک میں صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ خیبرپختونخوا میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، ایس ایم ایز کی معاونت اور اقتصادی زونز کی فعالیت بڑھانے کے لئے وزارتِ صنعت و پیداوار ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ملاقات میں رشکئی اکنامک زون سے متعلق مسائل سمیت صوبے کے مختلف اقتصادی زونز کی استعدادکار بڑھانے، نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدات میں اضافے کے حوالہ سے متعدد تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔








