فیفا نے خواتین فٹ بالرز کو مثبت سماجی تبدیلی کا محرک بنانے کے لئے فیفا پلیئر امپیکٹ پروگرام کے افتتاحی ایڈیشن کا آغاز کر دیا

پیرس۔28نومبر (اے پی پی):فیفا نے خواتین فٹ بالرز کو مثبت سماجی تبدیلی کا محرک بنانے کے لئے فیفا پلیئر امپیکٹ پروگرام کے افتتاحی ایڈیشن کا آغاز کر دیا ہے ،جس کے تحت 14معروف اور بااثر خواتین فٹ بالرز کو اپنے سوشل امپیکٹ منصوبے ڈیزائن کرنے اور ان کی قیادت کا موقع دیا گیا ہے۔فیفا کی چیف فٹ بال آفیسر جل ایلس کے مطابق یہ پروگرام کھلاڑیوں کو اس قابل بناتا …

پیرس۔28نومبر (اے پی پی):فیفا نے خواتین فٹ بالرز کو مثبت سماجی تبدیلی کا محرک بنانے کے لئے فیفا پلیئر امپیکٹ پروگرام کے افتتاحی ایڈیشن کا آغاز کر دیا ہے ،جس کے تحت 14معروف اور بااثر خواتین فٹ بالرز کو اپنے سوشل امپیکٹ منصوبے ڈیزائن کرنے اور ان کی قیادت کا موقع دیا گیا ہے۔فیفا کی چیف فٹ بال آفیسر جل ایلس کے مطابق یہ پروگرام کھلاڑیوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کھیل سے آگے بڑھ کر اپنی آواز اور میراث کو مضبوط بنائیں، یہ انہیں وہ وسائل اور معاونت فراہم کرتا ہے جس سے وہ ان معاشروں میں حقیقی تبدیلی لا سکیں جن سے ان کا تعلق ہے۔یہ پروگرام اگست میں پیرس میں شروع ہوا جہاں دنیا کی 14 ممتاز فٹ بالرز نے تین روزہ ابتدائی ورکشاپ میں شرکت کی۔

بعد ازاں انہیں تین ماہ کی خصوصی رہنمائی، تربیت اور کوچنگ فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنی دلچسپی کے سماجی منصوبوں کو عملی شکل دے سکیں، ان منصوبوں میں خواتین قیادت کی حوصلہ افزائی، سنگل ماؤں کی معاونت اور لڑکیوں کے فٹ بال اکیڈمیوں کا قیام شامل ہے۔کینیڈا کی معروف فٹ بالر کادیشا بوکینن نے بتایا کہ ان کا منصوبہ سنگل ماؤں اور ان کی بیٹیوں کو فٹ بال کے مواقع فراہم کرنے کے لئے وقف ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری فاؤنڈیشن کا مقصد فٹ بال کے ذریعے راستے بنانا ہے تاکہ رجسٹریشن فیس، سفر کے اخراجات اور رہنمائی فراہم کی جا سکے، میں خود ایک سنگل پیرنٹ گھرانے میں پلی بڑھی اور جانتی ہوں کہ کمیونٹی سپورٹ کس قدر اہم ہوتی ہے۔تین ماہ کی تربیت کے بعد تمام 14 کھلاڑی لندن میں دوبارہ جمع ہوئیں جہاں انہوں نے اپنے منصوبے فیفا چیف فٹ بال آفیسر جل ایلس، سابق افغان فٹ بالر اور فاؤنڈیشن بانی خالده پوپل اور معروف فلاحی شخصیت اولیویا ہال کے سامنے پیش کئے۔

ان منصوبوں کی بنیاد پر فیفا نے ابتدائی فنڈنگ فراہم کرنے کا اعلان کیا تاکہ یہ منصوبے عملی سطح پر نافذ کئے جا سکیں۔انگلینڈ کی سٹرائیکر الیسیا روسو نے کہا کہ یہ فیفا کے ساتھ شراکت کا ایک بہترین موقع ہے جس کے ذریعے ہم حقیقی اور انفرادی منصوبے شروع کر سکیں گی، میری کوشش ہے کہ لڑکیوں کو باوقار طریقے سے کھیلنے، سیکھنے اور خود پر اعتماد کے ساتھ جینے کا موقع ملے۔اسی طرح ویمنز ورلڈ کپ کی فاتح اور گوتھم ایف سی کی کھلاڑی ٹیرنا ڈیوڈسن نے کہا کہ فیفا کی مدد کے بغیر اتنے بڑے منصوبے کا آغاز ممکن نہ تھا۔

انہوں نے اسے اپنے انجری کے مشکل سال کے بعد ایک مثبت اور بامقصد پیشرفت قرار دیا۔فیفا کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف خواتین فٹ بالرز کو سماجی رہنما بنانے میں مدد دے گا بلکہ دنیا بھر میں لڑکیوں اور خواتین کے لئے مواقع اور رسائی میں بھی نمایاں اضافہ کرے گا۔فیفا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فٹ بال دنیا کو جوڑتا ہے اور یہی پروگرام اسی نظریے کا عملی اظہار ہے جس کے ذریعے کھیل کو ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

مزید خبریں