قائداعظم کے کردار کو صرف بیان نہیں، اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا ،ڈاکٹر جمال ناصر

سابق صوبائی وزیر صحت و بہبودِ آبادی پنجاب ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی سیرت و کردار کا تذکرہ کرنے سے آگے بڑھ کر ہمیں ان کے اصولوں اور افکار سے عملی رہنمائی حاصل کرنا ہوگی

اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):سابق صوبائی وزیر صحت و بہبودِ آبادی پنجاب ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی سیرت و کردار کا تذکرہ کرنے سے آگے بڑھ کر ہمیں ان کے اصولوں اور افکار سے عملی رہنمائی حاصل کرنا ہوگی۔ قومیں صرف اپنے عظیم رہنماؤں کو یاد کرنے سے نہیں بلکہ ان کے کردار، دیانت، سچائی اور اصول پسندی کو اپنی زندگیوں میں اتارنے سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پوری قوم کے سامنے اپنے کردار و عمل سے قائداعظم کے اصولوں کی عملی تصویر بنیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن فیض الاسلام فیض آباد مرکز میں یومِ قائداعظم اور یومِ دفاع کے سلسلے میں منعقدہ مشترکہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت انجمن فیض الاسلام کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے کی۔تقریب میں سینئر نائب صدر اظہار فاطمہ، نائب صدر اول لیفٹیننٹ کرنل (ر) جمیل اطہر، جنرل سیکرٹری گروپ کیپٹن (ر) پرویز اختر، جوائنٹ سیکرٹری طاہر ضیاء، بزمِ عروجِ ادب کے سربراہ نعیم اکرم قریشی، انجمن کے تعلیمی اداروں کے سربراہان اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ ہماری تمام سیاسی قیادت، اساتذہ کرام اور صاحبانِ علم و آگاہی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تقریبات میں قائداعظم سمیت ہمارے دیگر قومی رہنماؤں کے افکار اور محاسن کو محض بیان کرنے کے بجائے ان اصولوں کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں۔ قوم کے سامنے سچائی، رواداری، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور جمہوری روایات کا بہترین پرچار یہی ہے کہ ہم خود ان اوصافِ حمیدہ پر عمل کریں۔یومِ دفاع کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح ہماری مسلح افواج پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں بتدریج بہتر سے بہترین کی جانب سفر کر رہی ہیں، اسی طرح ہمارے سیاستدانوں کو بھی ذاتی مفادات کی سیاست سے بالاتر ہو کر وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ قومی مفاد پر مبنی طرزِ عمل اختیار کرکے ہی پاکستان کو ایک مضبوط معاشی قوت کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ بنیانُ المرصوص نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ قوم کو اپنی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور قربانیوں پر فخر ہے۔

ڈاکٹر جمال ناصر نے انجمن فیض الاسلام کی مجلسِ منتظمہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت سب سے افضل عبادت ہے، جو انجمن فیض الاسلام میں بھرپور انداز سے انجام دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت دراصل جنت کمانے کا آسان ترین راستہ ہے۔تقریب کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض تاریخی حقائق بیان کیے اور کہا کہ قائداعظم کی ایمبولینس کی خرابی اور لیاقت علی خان سے تعلقات کے حوالے سے بعض مشہور روایات تاریخی حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے قائداعظم کی سیاسی جدوجہد اور قیامِ پاکستان کے لیے ان کی حکمتِ عملی پر بھی روشنی ڈالی۔نعیم اکرم قریشی نے قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت کے انتہائی پابند تھے اور ان کی شخصیت اصول پسندی اور نظم و ضبط کی بہترین مثال تھی۔لیفٹیننٹ کرنل (ر) جمیل اطہر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور قائداعظم کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا جبکہ اظہار فاطمہ نے بچوں کو قائداعظم کے اصولوں اور تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی اور پاک مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ نے یومِ قائداعظم اور یومِ دفاع کے حوالے سے پُراثر تقاریر پیش کیں جبکہ ننھے طلبہ نے اسٹیج پر ٹیبلو اور خاکے پیش کرکے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔