قائم مقام چیئرمین سینیٹ سے مالدیپ کے سپیکر کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی ملاقات،دوطرفہ تعاون کے فروغ بارے تبادلہ خیال

قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں جنہیں پارلیمانی سفارت کاری اور عملی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ وہ مالدیپ کی پیپلز مجلس کے سپیکر عبدالرحیم عبداللہ کی قیادت میں پارلیمانی وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں جنہیں پارلیمانی سفارت کاری اور عملی تعاون کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ وہ مالدیپ کی پیپلز مجلس کے سپیکر عبدالرحیم عبداللہ کی قیادت میں پارلیمانی وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی روابط، تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی، عوامی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے مالدیپ کے سپیکر اور پارلیمانی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ دوطرفہ سطح کے علاوہ سارک، او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر بھی تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔ سیدال خان ناصر نے پارلیمانی سفارت کاری کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کا موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی وفود کے باقاعدہ تبادلوں، تجربات کے اشتراک اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے باہمی مفاہمت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، براہ راست فضائی و بحری روابط، مارکیٹ تک بہتر رسائی اور نجی شعبے کی شمولیت سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، گوشت، پھل و سبزیاں، ادویہ سازی اور دیگر شعبوں میں مالدیپ کے ساتھ تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے تعلیم کے شعبے میں تعاون کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی جامعات میں مالدیپ کے طلبہ کے لیے مزید تعلیمی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، طب، انجینئرنگ، فارمیسی، دندان سازی اور دیگر شعبوں میں پاکستان کی مہارت سے مالدیپ کے طلبہ مستفید ہو سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سیدال خان ناصر نے کہا کہ دونوں ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں اس لیے موسمیاتی تحقیق، تجربات کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے دفاعی تربیت، بحری سلامتی اور استعدادِ کار میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاعی روابط باہمی اعتماد اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ سیدال خان ناصر نے مالے میں مالدیپ کی پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر میں پاکستان کے تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی، اخوت اور ترقیاتی تعاون کی نمایاں علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

مالدیپ کی پیپلز مجلس کے سپیکر عبدالرحیم عبداللہ نے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ برسوں کے دوران مزید مستحکم ہوئے ہیں اور مالدیپ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع اور پارلیمانی و سفارتی روابط سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔مالدیپ کےسپیکر نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالدیپ مشکل اوقات میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے مالدیپ کی پارلیمنٹ کی عمارت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں پاکستان کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے موجودہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے، باہمی دلچسپی کے نئے شعبوں کی نشاندہی اور پارلیمانی روابط کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں اراکین قومی اسمبلی، اراکین سینیٹ، مالدیپ کے پارلیمانی وفد اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔