سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی شرط ہے، رول آف لا کے بغیر نہ ریاستی نظام مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جائے وہاں اس کے منفی اثرات پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں، اس لیے تمام …
قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا،شہدا کی قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے ،ملک محمد احمد خاں

مزید خبریں
لاہور۔21جولائی (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی شرط ہے، رول آف لا کے بغیر نہ ریاستی نظام مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جائے وہاں اس کے منفی اثرات پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔وہ منگل کو تحصیل بار ایسوسی ایشن سانگلہ ہل میں وکلا کے لیے تعمیر کیے گئے چیمبر بلاک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر سابق ممبر اسمبلی طارق باجوہ، ممبر صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ، ملک محمد ریاض خاں سابق ممبر پنجاب بار کونسل، رانا محسن ربانی صدر سانگلہ ہل بار، محمد عمر فاروق مدنی جنرل سیکرٹری سانگلہ ہل بار، مرزا نسیم الحسن سابق صدر قصور بار، چوہدری احمد لطیف صدر قصور بار، خادم حسین سدھو ممبر پنجاب بار کونسل، شہباز ورک صدر شیخوپورہ بار، آمنہ شہادت بھٹی جنرل سیکرٹری شیخوپورہ بار، جابر جاوید رامے صدر شاہ کوٹ بار، علی ناصر قادری صدر ننکانہ بار اور وکلا، بار عہدیداران، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ ملک محمد احمد خاں نے وکلا برادری کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، جبکہ بار کونسل سے متعلق معاملات، وکلا کے چیمبرز اور عدالتوں کے ماحول کی بہتری کے لیے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے وکلا کو بہتر ورک پلیس اور سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔اپنے خطاب میں سپیکر نے مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوج کے سیاسی کردار پر بات ہونی چاہیے تو ماضی کے فیصلوں پر بھی کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2007-08 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو باوردی صدر منتخب کرنے کے لیے دئیے گئے ووٹ کا جواب بھی دیا جانا چاہیے۔ ا نہوں نے کہا کہ جب حکومت مل رہی ہو تو فوج کا سیاسی کردار قبول کرنا اور بعد میں اسی کردار پر اعتراض اٹھانا دوہرا معیار ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال کا جواب دلیل اور تحمل سے دیا جانا چاہیے، گالم گلوچ کسی بھی سیاسی یا جمہوری روایت کا حصہ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان ماضی میں عمران خان کی جماعت پر تنقید کرتے تھے، تاہم آج انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔سپیکر نے کہا کہ پاک فوج کے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں اور انہیں سیاسی بیانات یا سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کا احترام ہر پاکستانی پر لازم ہے اور ان کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں، جبکہ دہشت گردی کے محرکات اور اس کے پس پردہ عناصر سے ریاست بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح جتھوں کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کو مضبوط کرنے والی سوچ، قومی اتحاد اور قانون کی حکمرانی ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، جبکہ پاکستان کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔







