اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے قدرتی آفات سے مکانات کو سالانہ 228 ارب ڈالر کے نقصان کے پیش نظر محفوظ اور آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی رہائش گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا ہے
قدرتی آفات سے مکانات کو سالانہ 228 ارب ڈالر کا نقصان، محفوظ اور مضبوط رہائش گاہوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے قدرتی آفات سے مکانات کو سالانہ 228 ارب ڈالر کے نقصان کے پیش نظر محفوظ اور آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی رہائش گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا ہے۔قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات کے باعث محفوظ مکانات کی تعمیر حکومتوں، تعمیراتی اداروں، انجینئرز اور مقامی آبادیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ کے شعبہ برائے تخفیفِ خطراتِ و آفات کے مطابق قدرتی آفات سے مکانات کو پہنچنے والا نقصان سمندری طوفانوں، سیلاب، سونامی اور زلزلوں سے ہونے والے براہِ راست نقصانات کا 43 فیصد ہے۔ادارے کی ترجمان جینیٹ ایلس ورتھ نے کہا کہ آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے مضبوط مکانات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار خاندان ضروری ہیں۔ عالمی رسک پول 2026 کے مطابق آفات سے متعلق پیشگی انتباہ ملنے پر صرف 27 فیصد ایسے افراد نے عملی اقدام کیا جن کے پاس ہنگامی منصوبہ نہیں تھا جبکہ منصوبہ بندی اور اپنی صلاحیت پر اعتماد رکھنے والوں میں یہ شرح 83 فیصد رہی۔عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم)کے مطابق ادارے نے 2025 میں 39 ممالک کی تقریباً 1,200 برادریوں میں 14 لاکھ افراد کو قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے کے پروگراموں کے تحت معاونت فراہم کی جبکہ 12 لاکھ سے زائد افراد تک پیشگی انتباہی نظام کی رسائی بڑھانے میں بھی مدد دی۔آئی او ایم کی عہدیدار ماریا موئٹا نے کہا کہ آفت گزرنے کے بعد بھی متاثرہ افراد کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں بلکہ انہیں گھروں کی بحالی، روزگار کی بحالی اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے نیپال، وینزویلا اور کولمبیا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت منصوبہ بندی اور درست معلومات کی فراہمی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ محفوظ مقامات پر تعمیرات، مضبوط تعمیراتی معیار پر عملدرآمد، موجودہ مکانات کی بہتری، پیشگی انتباہی نظام اور مقامی سطح پر تیاری کے لیے مستقل سرمایہ کاری یقینی بنائی جائے۔







