اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچوں میں غذائی قلت پرقابو پانے اور آبادی میں اضافہ کی روک تھام کی ضرورت کی اہمیت اجاگرکرتے ہوئے کہا ہے کہ قوموں کی تعمیر میں مثبت سوچ ، منصوبہ بندی اور وسائل کا درست استعمال ضروری ہے، ملک میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے، بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے جامع پالیسی …
قوموں کی تعمیر میں مثبت سوچ ، منصوبہ بندی اور وسائل کا درست استعمال ضروری ہے، صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ”قومی غذائی کانفرنس ”سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 فروری (اے پی پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچوں میں غذائی قلت پرقابو پانے اور آبادی میں اضافہ کی روک تھام کی ضرورت کی اہمیت اجاگرکرتے ہوئے کہا ہے کہ قوموں کی تعمیر میں مثبت سوچ ، منصوبہ بندی اور وسائل کا درست استعمال ضروری ہے، ملک میں بچوں کی بڑی تعداد غذائی قلت کا شکار ہے، بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے جامع پالیسی سازی کی ضرورت ہے، ملک کو صحت مند اورخوشحال بنانے کیلئے ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، میڈیا معاشرے میں سماجی برائیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں ”قومی غذائی کانفرنس ”سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے،29فیصد بچے مطلوبہ وزن سے کم ہیں جبکہ 10 فیصد بچوں کا وزن مقررہ معیارسے زائد ہے،54 فیصد بچے خون کی کمی اور63 فیصد بچے وٹامن ڈی کی کمی کا شکارہیں، ہمیں اپنے رہن سہن کا جائزہ لینا ہوگا۔ صدرمملکت نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی سماجی زندگی کے دوران صحت کے شعبہ میں بھرپورکام کیا ہے، عوام کو سہولت فراہم کرنے کیلئے انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا، عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریرمیں صحت کے مسائل اجاگرکرکے قوم کو آگاہی دی ۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں غربت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی تھیں لیکن پھر ڈبے کے دودھ کی بھرمارکے باعث مائوں کے اپنے بچوں کو دودھ پلانے میں کمی آئی، ڈبے کا کوئی بھی دودھ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ، قرآن پاک میں بھی نوزائیدہ بچے کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو آبادی کا بڑا مسئلہ درپیش ہے، خوراک کی کمی اور زچہ وبچہ کی صحت کے تناظرمیں بچوں کی پیدائش میں وقفہ ضروری ہے، ماں کے دودھ پلانے سے زچہ و بچہ دونوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، بد قسمتی سے ملک میں مختلف طبقوں میں غذائی قلت پائی جاتی ہے، ماں کے دودھ میں نوزائیدہ بچے کیلئے تما م اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کانفرنسوں میں پیش کئے گئے خیالات اور تخیلات کو عوام تک پہنچا کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، ہمیں ماضی کے تجربات کامیابیوں اورناکامیوں سے سیکھنا چاہئے، بنگلہ دیش ، مصر اورایران جیسے مسلمان ممالک نے آبادی کے مسئلے پر قابو پایا ہے، ہمیں ملک کو درپیش چیلنجزکے حوالے سے حکمت عملی اورمنصوبہ سازی پر عملدرآمدکیلئے نظام الاوقات مقرر کرکے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو معاشرے میں سماجی مسائل کو اجاگرکرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔








