اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو( نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آ فیسر عاصم مرتضی خان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے،بلین ٹری سونامی منصوبہ کی الگ الگ 4 انویسٹیگیشن اور 6انکوائریوں،شوگرسبسڈی سیکنڈل کی انکوائری سمیت 12انکوائریوں اور 7انویسٹی گیشن کی منظوری دی ہے۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس …
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کاچئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو( نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آ فیسر عاصم مرتضی خان اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے،بلین ٹری سونامی منصوبہ کی الگ الگ 4 انویسٹیگیشن اور 6انکوائریوں،شوگرسبسڈی سیکنڈل کی انکوائری سمیت 12انکوائریوں اور 7انویسٹی گیشن کی منظوری دی ہے۔نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاو¿ نٹبلٹی نیب،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی،ڈی جی نیب خیبرپختونخوا،ڈی جی نیب سکھراور ڈی جی نیب کراچی نے بذریعہ ویڈیولنک اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیںہیں ۔ نیب ،قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں عاصم مرتضٰی خان سابق مینجنگ ڈائریکٹر /چیف ایگزیکٹو آفیسر/رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل) اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی۔ملزمان پرمیسرزمورانوفتوڈولے کو تیل و گیس کی تلاش کے ٹھیکہ میں بدعنوانی کا الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (7) انوسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی۔جن میں المسہ ماڈل ٹاو¿ن اور پروفیسر ماڈل ٹاو¿ن کی انتظامیہ اور دیگر،بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں 4الگ الگ انوسٹی گیشنز،ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخوا کے افسران /اہلکاران اور دیگر،مرزا خان صوہیرا نی،محکمہ تعلیم اور خواندگی حکومت سندھ کے افسران و اہلکاران اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشنز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں (12) انکوائریز کی منظوری دی گئی۔ جن میں بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخواہ میں 6الگ الگ انکوائریز،شوگرسبسڈی سیکنڈل میں شوگر ملز کی انتظامیہ اور دیگر، عبدالرحیم خان،ظہور احمد،عظمت علی شاہ اور حمزہ خان، عرش الرحمان، ایڈیشنل کنٹرولر عبد الولی خان یونیورسٹی مردان اور دیگر،بنوں شوگر ملز لمیٹڈ کے افسران /اہلکاران،آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سردار خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،برہان خان چانڈیو رکن صوبائی اسمبلی،ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں قیصر ولی خان سابق رکن صوبائی اسمبلی،پاک پی ڈبلیو ڈی کے افسران/اہلکاران اور دیگر،ایل جی ای اینڈ آر ڈی ڈی، ٹی ایم اے ٹاو¿ن کے افسران اور اہلکاران اور دیگر،گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان کے افسران /اہلکاران اور دیگر،سابق ضلع ناظم پشاوراور دیگر،لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخواہ کے افسران /اہلکاران اور دیگر،ریونیو ڈپارٹمنٹ ڈی آئی خان کے افسران /اہلکاران اور دیگر،دلاور حسین میمن سی ای او سیپکو سکھر، نظیر سومرو سی ٹی او سکھر اور دیگرکے خلاف انکوائریز اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔جبکہ سریر محمد سابق ڈی جی پی ڈی اے، محمد طارق سابق جنرل منیجر پی ڈی اے،عبد الحلیم پراچہ سابق ڈائریکٹر پی ڈی اے، مرزا خان ہاو¿سنگ آفیسر پی ڈی اے اور دیگر کے خلاف انوسٹی گیشن اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لئے انتہائی سنجیدہ ہے۔ نیب کی اولین ترجیح میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت 468 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت،گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے۔نیب قانون کے مطابق بد عنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی دولت بر آمد کرنے کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لئے قانو ن کے مطابق اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکیوٹرز پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔








