قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا بیان

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب سب کے لئے احتساب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے بیان میں کہی ہے، انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرز جنرل کو ہدایت کی ہے کہ تمام …

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے، نیب سب کے لئے احتساب کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنے بیان میں کہی ہے، انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرز جنرل کو ہدایت کی ہے کہ تمام انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو مقررہ میعاد کے اندرمکمل کریں تا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق "سب کے لئے احتساب” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے وائٹ کالر کرائم کے میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے انسداد بدعنوانی کی موثر قومی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی اور گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں اور 2018 ءکی اسی مدت کے اعدادوشمار کے مقابلے میں2019ءمیں شکایات انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کی تعداد تقریباً دوگنی ہے، پچھلے 23 مہینوں کے تقابلی اعداد و شمار سے بھی نیب کی شاندار کارکردگی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ قیادت کے دور میں نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں 600 کرپشن ریفرنس دائر کیے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کارکردگی ہے، اس کے علاوہ 1230کرپشن کے مقدمات پہلے ہی متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، نیب کا مجموعی طور پر سزا کا تناسب تقریبا 70فیصد ہے، نیب نے بدعنوان عناصر سے 342ارب روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔