قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر تیسرے روز بھی بحث جاری رہی
قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر تیسرے روز بھی بحث جاری رہی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر تیسرے روز بھی بحث جاری رہی۔ حکومتی ارکان کی جانب سے بجٹ کو مشکل حالات میں متوازن اور عوام دوست جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف شعبوں میں بجٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں شاہد عثمان نے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ملک بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے ، بجٹ میں برآمدات پر مبنی نمو اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے واضح لائحہ عمل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات کسی بھی معیشت کا اہم حصہ ہوتا ہے ، برآمد کنندگان کیلئے بہتر ماحول کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں، اگر پاکستان کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں پہنچے گی تو ترسیلات زرکی مد میں فائدہ پہنچے گا اور مزید سرمایہ کاری آئے گی ۔ ٹیکس اصلاحات پر بھر پور توجہ دی گئی ہے ، حکومت نے کوئی نیاٹیکس عائد نہیں کیا، حکومت آٹومیشن اور ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویزی بنانے سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ بجٹ میں زراعت پر توجہ دی گئی ہے ، چھوٹے کسانوں کیلئے قرضوں کی تجویز دی گئی ہے جس سے زراعت کو فائدہ پہنچے گا۔ ہائوسنگ اور تعمیراتی شعبہ کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقہ کیلئے بھی مراعات دی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ عورتوں کو بااختیار بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے پڑیں گے،صحت کے شعبہ میں مسائل ہیں،ایڈز، ہیپاٹائٹس سمیت کئی بیماریوں میں دنیا میں پاکستان اولین فہرست میں ہے،صحت کے بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے۔
مسلم لیگ (ن) کی رکن گلناز شہزادی نے کہا کہ سیالکوٹ پاکستان کا اہم صنعتی شہر ہے،پاکستان کی جی ڈی پی میں اس کا نمایاں حصہ ہے،سیالکوٹ میں نالج سٹی بنایا جائے۔ نیلم کماری نے کہا کہ مشکل حالات میں حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا،معاشی ترقی مسلم لیگ ن کا عزم رہا ہے،ملک میں موٹر ویز سمیت بڑے منصوبے مسلم لیگ (ن )کے دور کے ہیں۔








