قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری ، زراعت پر مزید توجہ مرکوز کرنے ، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت پرزور

قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث چھٹے روز بھی جاری رہی، اس دوران اراکین نے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت پر مزید توجہ مرکوز کرنے ، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت پرزور دیا جبکہ اراکین نے ایران امریکہ ثالثی پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی …

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث چھٹے روز بھی جاری رہی، اس دوران اراکین نے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت پر مزید توجہ مرکوز کرنے ، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کی ضرورت پرزور دیا جبکہ اراکین نے ایران امریکہ ثالثی پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن علی اصغر خان نے کہا ہے کہ ریاست اپنی مراعات کو تحفظ جبکہ بوجھ غریب کے کندھے پر ڈال رہی ہے، بجٹ میں فائدہ مراعات یافتہ طبقہ کو مل رہا ہے، بڑے بڑے شوگر، گندم، واٹر ٹینکر مافیا کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ گلیات سے مری کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے لیکن گلیات میں پانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسیشن کا بوجھ بہر صورت غریب پر پڑتا ہے۔1700 ارب پٹرولیم لیوی کی مد میں غریب سے لیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قوم کا سوچنا ہے،8 ہزار روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے مختص ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں قربانی دینے والے جوانوں کی قدر کرتے ہیں،وزارتوں کے محکمہ جات پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے اخراجات کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اجداد نے کشمیر اور گلگت بلتستان میں 1947 میں قربانیاں دیں،کشمیریوں کے پاس بندوقیں نہیں تھیں وہ ٹھنڈے لے کر ساتھ شامل ہوئے،وہ اپنا حق مانگتے ہیں،ان کو غدار قرار دینا درست نہیں۔

مسلم لیگ ن کی رکن کرن حیدر نے کہا کہ وفاقی بجٹ ن لیگ کی حکومت نے بلوچستان میں دانش سکولوں کے قیام کے لئے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ نوازشریف اگر پاکستان میں ایٹمی دھماکے کرکے ملک کو جوہری قوت نہ بناتے تو آج دنیا میں پاکستان کو یہ عزت نہ ملتی،فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف عالمی ثالثی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔اس سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید شفقت علی شاہ شیرازی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیاجائے، ٹھٹھہ میں یونیورسٹی قائم کی جائے،سندھ کی حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے۔ ٹھٹھہ اور سجاول پر بجٹ میں توجہ دی جائے۔ مسلم لیگ ن کے رکن سردار یعقوب خان ناصر نے کہا کہ معرکہ حق اور ایران امریکہ ثالثی پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ تاریخ میں یہ کارنامہ سنہرے حروف میں لکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندرونی مسائل کے،امن وامان اور سکون کے لئے ایسا ہی کردار ادا کرنا ہوگا۔بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر توجہ دی جائے۔ سید مہدی نسیم نے کہا کہ بجٹ میں زراعت پر مزید توجہ مرکوز کئے جانے کی ضرورت ہے۔ محمود قادر خان نے کہا کہ کاٹن کی پیداوار کم ہوئی ہے،ہماری کاٹن کا معیار عالمی معیار کا ہے،اس شعبہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،کچھی کینال مکمل ہوجائے تو کاٹن کی پیداوار ملکی ضروریات کے مطابق ہوسکتی ہے اور باہر سے اس کی درآمد کی ضرورت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 80 ہارس پاور سے زیادہ کے ٹریکٹر منگوائے۔زرعی شعبہ پر توجہ دی،کراپ زوننگ کی جائے۔ محمدمعین عامرپیرزادہ نے کہاکہ کراچی خصوصا کورنگی میں پانی کی شدید قلت ہے، شہری ٹینکر اور لائنوں کے پانی کے لیے مشکلات کا شکار ہیں۔ کے فور منصوبہ 2008 سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ قیوم آباد میں نئی واٹر لائن کی منظوری کے باوجود چار سال سے کام شروع نہیں ہو سکا اور موجودہ لائنیں آلودہ پانی فراہم کر رہی ہیں۔احتجاج کرنے والے شہریوں پر ایف آئی آر کا اندراج بھی تشویش ناک ہے جس پر فوری نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہاکہ بچوں کے دودھ اور ٹیٹرا پیک مصنوعات پر ٹیکس سے صنعت، کسان اور پھلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، اس لیے پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔کراچی کے ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر بھی سوالات ہیں۔اصل حل مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں میں ہے، جب تک بلدیاتی نظام کو خودمختاری نہیں دی جاتی ترقی ممکن نہیں۔ارشدعبداللہ ووہرانے اپنی جماعت اور پاکستانی قوم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام متعلقہ اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کا موثر سفارتی موقف دنیا کے سامنے رکھا۔انہوں نے کہاکہ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز اور تقریبا چار کروڑ آبادی کا شہر ہے، آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے جس کے باعث بلدیاتی نظام کمزور اور شہری مسائل جوں کے توں ہیں۔

ایک مضبوط اور بااختیار لوکل گورنمنٹ ہی ان مسائل کا پائیدار حل ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کا بھی شکار ہے۔ اربوں روپے کے سکینڈلز سامنے آتے ہیں، مگر نہ موثر تحقیقات ہوتی ہیں اور نہ ہی قومی خزانے کی ریکوری ہورہی ہے۔ اس مالی کرپشن کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی سعیدہ جمشیدنے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے موثر سفارت کاری کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ بجٹ 2026-27 میں مختلف طبقات خصوصا خواتین اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ، نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر کاروباری قرضے اور بے گھر افراد کے لیے ہائوسنگ سکیم قابل تحسین اقدامات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلع مردان سے ہے جہاں 80 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے اور تمباکو ہماری اہم نقد آور فصل ہے۔ اس شعبے سے حکومت کو اربوں روپے کی سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی حاصل ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود تمباکو کے کاشتکاروں، چھوٹے کارخانہ داروں اور ڈیلرز کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ تمباکو پر عائد اضافی ٹیکس واپس لیا جائے، اسے باقاعدہ زرعی فصل کا درجہ دیا جائے اور اسے کامرس کے بجائے زراعت کے شعبے کے تحت لایا جائے اسی طرح چھوٹے کارخانہ داروں کو غیر ضروری ہراسانی سے بچایا جائے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مقامی صنعت کے لیے الگ ٹیکس پالیسی مرتب کی جائے تاکہ روزگار اور مقامی صنعت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں ہمارے حلقوں کو سیاسی بنیادوں پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

میری گزارش ہے کہ ان علاقوں کے لیے بھی مناسب ترقیاتی فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ عوام بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ شاکربشیراعوان نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارت کاری قابل تعریف رہی جس سے خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت ملی موجودہ حالات کے تناظر میں پیش کیا گیا بجٹ متوازن ہے۔ نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضوں، ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا آغاز خوش آئند ہے تاہم ان پر موثر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ کھیلوں، خصوصا کرکٹ کی بہتری کے لیے سابق کھلاڑیوں سے بھی مشاورت کی جائے تاکہ قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سے درخواست ہے کہ کم از کم پنشن میں اضافہ کیا جائے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں باعزت زندگی گزار سکیں۔ اپنے ضلع خوشاب کے حوالے سے بھی گزارش ہے کہ ایم-2 موٹروے کو سی پیک روٹ سے منسلک کرنے کے منصوبے اور خوشاب۔سرگودھا ڈوئل کیرج وے کیلئے جلد فنڈز جاری کیے جائیں کیونکہ یہ منصوبے علاقے کی معاشی ترقی اور عوام کی سفری سہولت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آئے گی جس کا فائدہ پاکستان کے عوام کو بھی ملنا چاہیے اور مہنگائی میں واضح کمی ہونی چاہیے۔ عامرگوپانگ طلال نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں تین ایسے تاریخی مواقع آئے ہیں جو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھے جائیں گے۔

پہلا وہ لمحہ جب 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح نے بے شمار مشکلات، قربانیوں اور مخالف قوتوں کی مزاحمت کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن پاکستان عطا کیا، دوسرا تاریخی موقع 28 مئی 1998 تھا، جب قائد میاں محمد نواز شریف نے عالمی دبائو، دھمکیوں اور پابندیوں کی پروا کیے بغیر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ تیسرا موقع حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران سامنے آیا، جب دنیا کو ایک بڑی جنگ کے خدشات لاحق تھے۔ ایسے وقت میں پاکستان نے ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا اور امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا جو قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ 2026-27 پر بہت سی آرا سامنے آئی ہیں۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے تاہم ہمیں قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ موجودہ معاشی حالات میں یہ بجٹ ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جانے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، لہذا آئندہ گندم کی فصل کے لیے امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے اور کم از کم پانچ ہزار روپے فی من قیمت مقرر کی جائے تاکہ کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے پی ایس ڈی پی کے تحت ضلع مظفرگڑھ کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔ تقریباً 56 لاکھ آبادی پر مشتمل اس ضلع میں آج تک کوئی سرکاری یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی۔

حکومت سے گزارش ہے کہ مظفرگڑھ میں جلد از جلد ایک سرکاری یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو اعلی تعلیم کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ اور سفارتی محاذ پر پاکستان کا موقف موثر انداز میں پیش کیا اور ملک کا وقار بلند کیا۔

 

مزید خبریں