وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی معیشت کے اہم شعبوں کو مضبوط بنانے اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا
سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 435.665 ارب روپے کے 12 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی معیشت کے اہم شعبوں کو مضبوط بنانے اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مجموعی طور پر 12 منصوبوں پر غور کیا گیا، جن میں سے 16.904 ارب روپے مالیت کے 6 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 418.761 ارب روپے لاگت کے 6 بڑے منصوبے مزید غور کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنك) کو بھجوا دیئے گئے۔اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، پلاننگ کمیشن کے اراکین، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ محکموں کے سربراہان اور متعلقہ وزارتوں و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ اور آبی وسائل سمیت اہم شعبوں کے منصوبے شامل تھے
جو ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی، جدید طرز حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور انسانی وسائل کے فروغ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔اجلاس میں بجلی کے شعبے سے متعلق سات منصوبے پیش کیے گئے جن میں سیپکو، کیسکو، پیسکو اور حیسکو میں 100 اور 200 کے وی اے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کے لیے جدید اثاثہ جاتی کارکردگی کے نظام (اے پی ایم ایس) کی تنصیب اور ’’بیسٹ پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت استعداد کار میں اضافے کا منصوبہ شامل تھا۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 14 ارب روپے سے زائد ہے اور انہیں سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کر لیا۔اسی طرح لیسکو میں اے پی ایم ایس کی تنصیب کے 24.065 ارب روپے کے منصوبے اور نیشنل گرڈ نیٹ ورک میں ری ایکٹو پاور کمپنسیشن ڈیوائسز کی تنصیب کے 194.951 ارب روپے کے منصوبے کو مزید منظوری کے لیے ایکنیك کو بھجوا دیا گیا۔
احسن اقبال نے ہدایت دی کہ بڑے منصوبوں میں خریداری کے ماہرین کی تقرری یقینی بنائی جائے اور لیسکو، پیسکو، کیسکو، حیسکو اور سیپکو کے منصوبوں کے تخمینوں میں یکسانیت اور درست لوڈ اسیسمنٹ کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کا تحفظ ’’اڑان پاکستان‘‘ کا بنیادی ستون ہے، کیونکہ قابل اعتماد اور جدید توانائی کا نظام صنعتی ترقی، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سسٹمز اپنانے اور ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔پنجاب حکومت کا 43.081 ارب روپے کا ’’پنجاب اربن لینڈ سسٹمز انہانسمنٹ پراجیکٹ‘‘ (PULSE) بھی اجلاس میں پیش کیا گیا جسے عالمی بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا جائے گا۔
اس منصوبے میں شہری و دیہی اراضی کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، کچی آبادیوں اور زمین کے سروے، جدید لینڈ ایڈمنسٹریشن سسٹم، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹس اور سرکاری زمینوں کے انتظامی نظام کی تشکیل شامل ہے۔احسن اقبال نے ہدایت کی کہ منصوبے کو ایکنیك میں پیش کرنے سے قبل پنجاب حکومت کے ساتھ تبادلہ شرح کے اثرات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔اسی شعبے کا ’’سمارٹ اسلام آباد انیشی ایٹو، فیز اول‘‘ منصوبہ 2.891 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلام آباد میں بہتر طرز حکمرانی، سکیورٹی، بین الادارہ جاتی رابطے اور شہری خدمات کی فراہمی کو موثر بنانا ہے۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ منصوبے کے شعبہ وار نتائج کو پی سی ون میں واضح طور پر شامل کیا جائے تاکہ اس کے اثرات کا موثر انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔پنجاب حکومت کا 60.493 ارب روپے کا ’’بابو صابو لاہور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ‘‘ منصوبہ بھی ایکنیك کو بھجوا دیا گیا۔
اس منصوبے کے تحت لاہور کے سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کے لیے جدید ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جائے گا تاکہ آلودگی میں کمی، عوامی صحت کا تحفظ اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔فورم نے ہدایت کی کہ منصوبے کی لاگت میں اضافے کا ازسرنو جائزہ پنجاب حکومت کے ساتھ مشاورت سے لیا جائے۔64.096 ارب روپے کے ’’جلال پور اریگیشن کینال پراجیکٹ‘‘ کے نظرثانی شدہ منصوبے کو بھی ایکنیك کے لیے سفارش کر دی گئی۔ اس منصوبے میں ایشیائی ترقیاتی بینک 55.880 ارب روپے فراہم کر رہا ہے جبکہ پنجاب حکومت اور کسان بھی اس میں حصہ دار ہیں۔
فورم نے رکن انفراسٹرکچر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ منصوبے کی حتمی لاگت کا تعین کیا جا سکے۔32.075 ارب روپے کے ’’سدرن پنجاب پاورٹی ایلیوی ایشن پراجیکٹ‘‘ (SPPAP) کو بھی ایکنیك کو بھجوا دیا گیا۔ اس منصوبے کی مالی معاونت انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD)، حکومت پنجاب اور مستفید ہونے والے افراد مشترکہ طور پر کریں گے۔ یہ منصوبہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں غربت کے خاتمے، معاشی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، مساوات اور عوامی بااختیاری کے فروغ کے لیے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے پانچ ایز قومی اقتصادی تبدیلی پروگرام سے ہم آہنگ ہے اور پنجاب حکومت کی سماجی تحفظ و غربت کے خاتمے کی حکمت عملی کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا۔








