نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اور یونیسیف کے اشتراک سے ملک میں چائلڈ لیبر سے متعلق قومی رپورٹ کا اجراء

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کے اشتراک سے جمعرات کو ملک میں چائلڈ لیبر سے متعلق قومی رپورٹ کا اجراء کر دیا گیا۔این سی ایچ آ ر کی پریس ریلیز کے مطابق جاری کی گئی رپورٹ ’’پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل‘‘ تقریباً تین دہائیوں بعد بچوں سے مشقت کے حوالے سے پہلا قومی سطح کا نمائندہ ڈیٹا سیٹ ہے

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کے اشتراک سے جمعرات کو ملک میں چائلڈ لیبر سے متعلق قومی رپورٹ کا اجراء کر دیا گیا۔این سی ایچ آ ر کی پریس ریلیز کے مطابق جاری کی گئی رپورٹ ’’پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل‘‘ تقریباً تین دہائیوں بعد بچوں سے مشقت کے حوالے سے پہلا قومی سطح کا نمائندہ ڈیٹا سیٹ ہے جس میں ملک بھر میں چائلڈ لیبر کے حجم، نوعیت، خطرات اور بنیادی اسباب کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چائلڈ لیبر کا مسئلہ کسی ایک وزارت یا ادارے کی کوششوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کا مسئلہ عام تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے موثر قانون سازی، مناسب بجٹ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مستقل سیاسی عزم ناگزیر ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پاکستان آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بچوں کے تحفظ کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 11 کم عمر بچوں کو خطرناک پیشوں میں ملازمت سے روکتا ہے جبکہ آرٹیکل 25-A ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ چائلڈ لیبر جیسے پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے پالیسی سازی میں بچوں کی آواز اور تجربات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ چائلڈ لیبر کوئی ناگزیر حقیقت نہیں بلکہ غربت، سماجی محرومی اور ناکافی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول ہر وہ بچہ جو مزدوری کے بجائے سکول میں موجود ہو، معاشرے کی کامیابی کی علامت ہے۔پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پرنائیلے آئرنسائیڈ (Pernille Ironside) نے کہا کہ نئی رپورٹ حکومت اور شراکت دار اداروں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ چائلڈ لیبر کہاں اور کس شدت سے موجود ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کہا کہ بچوں سے مشقت کے حوالے سے آخری جامع سروے 1996ء میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں میں چائلڈ لیبر کی شرح مختلف ہے، یہ ملک میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔رپورٹ میں غربت کو چائلڈ لیبر کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کم آمدنی والے اور کم تعلیم یافتہ والدین کے بچوں میں چائلڈ لیبر کی شرح زیادہ دیکھی گئی جبکہ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں خصوصاً خطرناک مشقت میں مصروف پائے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں سے کروائی جانے والی مزدوری کا بڑا حصہ خاندانی ماحول، کھیتوں، ورکشاپس اور گھریلو کاموں میں انجام پاتا ہے جس کے باعث اس کی نشاندہی اور نگرانی روایتی لیبر انسپیکشن نظام کے ذریعے مشکل ہو جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق محنت و مشقت میں مصروف بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے محروم رہتی ہے، طویل اوقات تک کام کرتی ہے اور چوٹوں، بیماریوں، تھکن اور ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہوتی ہے۔پاکستان میں 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں جن میں ایک بڑی تعداد سے زائد خطرناک نوعیت کی مشقت میں مصروف ہے جو ان کی صحت، تعلیم اور مستقبل کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 60 لاکھ بچے مشقت میں مصروف ہیں، سندھ میں 16 لاکھ، خیبرپختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار 155، بلوچستان میں 2 لاکھ ایک ہزار 352 جبکہ اسلام آباد میں 15 ہزار 180 بچے محنت مزدوری کرتے ہوئے ریکارڈ کیے گئے۔تقریب میں ’’چائلڈ لیبر کے حقیقی نتائج‘‘ کے عنوان سے ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا جس میں نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چلڈرن کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق ، اداکارہ اور سماجی کارکن ثروت گیلانی اور سینیٹر ذیشان خانزادہ نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر بچوں کے نمائندے امیران نے یونیسیف کے تعاون سے چلنے والے ایکسلیریٹڈ لرننگ پروگرام کے ذریعے اپنی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پروگرام میں شمولیت کے بعد وہ ایک ساتھی طالب علم کے ساتھ سبزیوں کا سٹال قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور اب کام کے ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔