صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن، علاقائی استحکام اور موثرسفارتکاری کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے
اسلام آباد امن معاہدہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا تاریخی ثمر ہے، دنیا نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا: بخت محمد کاکڑ

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 18 جون (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی امن، علاقائی استحکام اور موثرسفارتکاری کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ اور سفارتکاری ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ’’اے پی پی ‘‘سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔بخت محمد کاکڑنے کہا کہ اسلام آباد میں طے پانے والا یہ معاہدہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان آج بھی خطے اور دنیا میں امن، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک قابل اعتماد اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے نہ صرف مشرق وسطی میں کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت اور فعال سفارتکاری کے نتیجے میں پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر امن کے داعی ملک کے طور پر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی حمایت کی ہے اور اسلام آباد معاہدہ اسی پالیسی کی کامیاب عکاسی ہے۔انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مکالمہ اور سفارتکاری ہے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ امریکہ اور ایران کی قیادت کی جانب سے معاہدے پر دستخط اس امر کا ثبوت ہیں کہ پیچیدہ بین الاقوامی مسائل بھی سنجیدہ مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کامیابی پر دونوں ممالک کی قیادت، مذاکراتی ٹیموں اور دوست ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور عوامی خوشحالی کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔








