قومی اسمبلی نے وزارت داخلہ کے 74 ارب روپے سے زائد کے مطالباتِ زر منظور، اپوزیشن کی 123 کٹوتی تحاریک مسترد
قومی اسمبلی نے وزارت داخلہ کے 74 ارب 35 کروڑ 43 لاکھ روپے سے زائد کے 4 مطالبات زر کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):قومی اسمبلی نے وزارت داخلہ کے 74 ارب 35 کروڑ 43 لاکھ روپے سے زائد کے 4 مطالبات زر کی منظوری دیدی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی کٹوتی کی 123 تحاریک مسترد کر دیں ۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ہمارے اقدامات کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کے پاسپورٹ کی ریٹنگ بہتر ہوئی ہے، اسلام آباد میں جرائم میں 47 فیصد کمی ہوئی ہے، سائبر کرائم نے 698 لوگ پکڑے، غیر قانونی انسانی سمگلنگ میں نمایاں کمی ہوئی۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں شعبہ داخلہ و انسداد منشیات کے 30 جون 2027ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات پورے کرنے کیلئے 26 ارب 65 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد، دیگر اخراجات کی مد میں 23 ارب 12 کروڑ 51 لاکھ روپے سے زائد، دارالحکومت اسلام آباد کے اخراجات کیلئے 23 ارب 22 کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد اور قومی اتھارٹی برائے انسداد دہشت گردی کے اخراجات کیلئے ایک ارب 35 کروڑ 58 لاکھ روپے سے زائد کے چار مطالبات زر پیش کئے ، ان پر اپوزیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 123 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئی تھیں جن کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔ بعد ازاں ان کٹوتی کی تحریکوں پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت 8 مختلف فورسز اندرون سکیورٹی کیلئے کام کرتی ہیں، ایک سال کے اندر ان فورسز کے 501 اہلکار شہید ہوئے۔ انہوں نے سمگلنگ کی روک تھام ،انسداد منشیات کیخلاف کارروائیوں، آبی ذخائر کی حفاظت سمیت مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے جامع شہادت نوش کیا ہے، شہباز شریف کی سربراہی میں وزارت داخلہ میں اصلاحات ہو رہی ہیں، اس میں قومی فرانزک ایجنسی ، نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کا قیام شامل ہے۔ آج پاکستان کی حکومت کی کاوشوں کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کا پاسپورٹ 100 ویں نمبر سے نیچے آ گیا ہے۔ اس کیلئے ہم نے پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز اور پاسپورٹ میں تبدیلی لائی اس میں امیگریشن لاز لے کر آئے۔ ہمارے 10 سے زائد ممالک کے ساتھ بلیو اور ریڈ پاسپورٹ پر ویزہ فری انٹری کیلئے معاہدے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاسپورٹ دفاتر کے قیام کے حوالے سے مطالبات سامنے آئے ہیں اس پر بہت لاگت آتی ہے تاہم ہم جلد تمام نادرا دفاتر کو بھی پاسپورٹ بنانے پر مامور کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد انسداد منشیات کا شعبہ صوبوں کو جا چکا ہے، ہم نے اپنے محدود ترین وسائل اور 3 ہزار 192 نفری اور 33 تھانوں کے ساتھ پورے پا کستان میں ای پالیسنگ سسٹم کے تحت ایک سال کے اندر 20 ارب ڈالر کی منشیات اور دوسری ممنوع ڈرگز سیز کی ہیں، صوبوں کی جانب سے الگ سے کارروائیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حج پروازوں سے بھی منشیات سمگل ہوتی رہیں لیکن گزشتہ دو سال سے کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منشیات کے حوالے سے بڑی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام عرب ملکوں کے نار کوٹکس کے شعبہ کے اعلیٰ آفیسران نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مختلف کارروائیوں میں بین الاقوامی گینگ کے 108 ملزمان گرفتار کئے۔ 32 من منشیات پکڑی، 40 کے قریب آپریشن کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انسداد منشیات فورس میں مزید 500 جوان بھرتی کرنے کی منظوری لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی سطح پر قومی ایکشن پلان بنایا گیا تاہم اس پر عملدرآمد وفاق کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں نے کرنا ہے اس سے نمٹنے کیلئے نیکٹا کا ادارہ 15 سال قبل قائم ہوا تاہم اس کا بورڈ بنا نہ اس کے اجلاس ہوئے، اس کی اپنی عمارت نہیں تھی اور مستعار لے کر آفیسران سے کام چلایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو فعال کیا اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 4 اجلاس ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتفاق رائے سے دہشت گردی 2017-18ء میں ختم ہو چکی تھی ، دہشت گردی کے دوبارہ شروع ہونے کی وجوہات کی بحث میں پڑے بغیر بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ ایک سال میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد اطلاعات پر مبنی کارروائیاں کی گئیں، اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 120 لوگ شہید ہوئے، دہشت گردی کے عروج کا سال 2025ء تھا جس میں 1890 دہشت گرد مارے گئے، ان کی ہمسایہ ممالک افغانستان سے تشکیل ہوتی تھی اور یہ گروپس وہاں سے آپریٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق یا کوئی صوبہ اکیلے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا، ہماری فورسز نے اس کے خاتمے کیلئے ہر ممکنہ کوششیں کی ہیں تاہم اگر کہیں پر اس کے خاتمے میں کوئی کمی ہے تو وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سکیورٹی فورسز کے پیچھے ایک بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے این ایف سی کے ایک فیصد ملتا ہے جس کے تحت انہیں 800 ارب روپے تک ملے ہیں تاہم 20 سے 25 سال میں دوسرے صوبوں نے فرانزک لیب سمیت سی ٹی ڈی بھی تشکیل نہیں دی، سیف سٹیز پر سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں شہباز شریف نے یہ کام شروع کیا اور آج اس کا لیڈنگ رول ہے جبکہ سندھ اس پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سمیت وزارت داخلہ سے متعلق تمام ایشوز کو یہاں ان کیمرہ زیر بحث لانے یا اس ایوان میں وزارت کی کارکردگی اور اس سے متعلق امور کو تفصیلی زیر بحث لایا جائے، ہم ہر طرح سے جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے معاملے پر جب کوئی اجلاس منعقد ہو تو اپوزیشن کو اس میں اپنی حاضری یقینی بنانی چاہئے، یہاں ایوان میں جعفر ایکسپریس پر اجلاس ہوا تو اپوزیشن نے شرکت نہیں کی۔ طلال چوہدری نے کہا کہ قومی ایکشن پلان بانی پی ٹی آئی کے دور میں بنا، یہ ایک مشترکہ دستاویز تھی اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا اور کون سا صوبہ نہیں کررہا ، اس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، خیبرپختونخوا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کا دارالحکومت ہے لیکن وہاں پر صرف 25 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔ اب اس کیلئے صوبے نے پیسے رکھے ہیں جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق سی ٹی ڈی ، فرانزک لیب کے قیام کے سلسلے میں تعاون کرنے پر تیار ہے۔ یہ شہباز شریف کی جانب سے بلینک چیک ہے کہ اس کیلئے آئیں اور بیٹھ کر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ بجٹ میں پہلا ہدف ہے، امن آئے گا تو پھر کوئی اور بات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے پر بھی یہاں بہت تنقید ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ بدعنوان لوگ بھی سسٹم میں ہوں گے تاہم اسی ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر ہر شعبہ سے لوگ لائے گئے ان کی بھرتیاں کس نے کیں، کس نے انہیں سیاسی طور پر استعمال کیا، یہ جاننا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈیپوٹیشن پر آئے تمام غیر ضروری آفیسران اپنے محکموں میں واپس بھیج دیئے ہیں۔ اندرونی احتساب کرتے ہوئے ہم نے 100 افسران کو نوکری سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا الزام غیر قانونی طور پر انسانی سمگلنگ کا تھا جس کی وجہ سے ہمارے ویزے اور پاسپورٹ کی ریٹنگ متاثر ہوتی تھی، کبھی کسی کشتی حادثے میں وہ مارے جاتے تھے اور کبھی ایجنٹوں کے ہاتھوں رل جاتے تھے، ہمارے اقدامات کی وجہ سے محض 2 سال کے اندر اس میں 47 فیصد کمی آئی ہے، یہ اعداد و شمار عالمی ایجنسی کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم لا رہے ہیں جس میں کیس رجسٹریشن سے عدالت کے چالان تک ایک ایک چیز آپ یہاں بیٹھ کر دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر یہ اعتراض کیا گیا کہ لوگوں کو ہوائی اڈوں سے ڈی پورٹ کیا جاتا ہے تو اس حوالے سے ایوان بتائے کہ اگر سعودی عرب جیسا ہمارا دوست ملک ساڑھے 5 ہزار بھکاری پکڑ کر دے اور یہ کہے کہ یہ آپ نے بھیجے ہیں اسی طرح یو اے ای ہم پر سوال اٹھائے تو ان کی روک تھام کیلئے ہم نے ایک پروفائل سسٹم بنایا ہے، پہلی بار سفر کرنے والے مسافر کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کیونکہ اکثر لوگ یہاں سے ہی وزٹ ویزے پر جاتے ہیں لیکن آگے جا کر وہ غائب ہو جاتے ہیں، اس میں ہمیں سب کا تعاون چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کا نیا ادارہ قائم کیا ہے جس کے پورے پا کستان کیلئے 481 ملازمین ہیں۔ وزیراعظم نے اس میں مزید بھرتیوں کی اجازت دی ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ان 481 ملازمین نے 72 ہزار 400 شکایات ڈیل کیں ان میں سے 32 ہزار 146 کی تصدیق 10 ہزار 356 کی انکوائری اور 637 کیس رجسٹرڈ کئے، 689 لوگوں کو پکڑا، ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ہمارے شہداء کا مذاق اڑاتے یا غلط اطلاعات پھیلا رہے تھے اور ایسے بھی شامل ہیں جو چیف جسٹس سمیت بہت سارے لوگوں کے سروں کی قیمت لگاتے تھے۔ ہم نے فنانشل کرائم کی روک تھام کیلئے غیر ملکی بھی پکڑے جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم نے 2 سالوں میں اسلام آباد میں 15 بڑے منصوبے مکمل کئے جن میں جناح سکوائر 72 دن، طیب اردوان 84 دن ، اقبال فلائی اوور77 دن ، نائنتھ ایونیو 63 دن میں مکمل ہوئے اسی طرح فیض آباد کی ری ماڈلنگ کی گئی۔ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ماڈل جیل بنائی جا رہی ہے جس میں عالمی معیار کی سہولیات میسر ہوں گی جہاں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی الگ بیرکس ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے 90 ارب روپے سے چار شہروں میں میٹرو بنائی جبکہ پشاور میں 100 ارب روپے سے زائد لگا کر ایک میٹرو بھی مکمل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں بڑے جرائم میں 48 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اسلام آباد کو پہلا سمارٹ سٹی بنانے جا رہے ہیں جس میں نئی ای گورننس کے تحت تمام میونسپل سروسز مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی، ناروے اور جمہوریہ چیک سمیت چار ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے معاہدے طے پائے ہیں جبکہ ترکیہ، جنوبی افریقہ، ملائیشیا سمیت 5 ممالک کے ساتھ یہ معاہدے پائپ لائن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناکوں کے اوپر کسی بھی سطح پر صوبائی یا زبان کی بنیاد پر کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا یہاں پر کراچی کی پنکی کے دندناتے پھرنے کا معاملہ اٹھایا گیا تو میں یقین دلاتا ہوں کہ پنکی کراچی کی ہو یا لاہور کی جو بھی غلط کاروبار کرے گا ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کچے کے ڈاکوئوں کیخلاف بھرپور آپریشن کیا گیا اور کہیں بھی کوئی نوگو ایریا نہیں ہے اسی طرح سندھ نے بھی بھرپور کارروائیاں کی ہیں، ہم نے اسلام آباد میں پچاس فیصد سے زائد پولیس چیک پوسٹیں کم کی ہیں، مزید بھی کوئی غیر ضروری ہوئی تو اسے ختم کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ بلٹ پروف گاڑیوں کیلئے این او سی کے اجراء کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی وزارت میں کام کرتی ہے، اس کیلئے ایک و اضح پالیسی ہے اور سخت ایس او پیز ہیں۔ ان کے مطابق ہی اس کی اجازت دی جاتی ہے ہمارے پاس ایسی گاڑیوں کا تمام ریکارڈ موجود ہے کسی ایسے فرد کو این او سی نہیں دی جاتی جو اس کا غلط استعمال کرے۔ یہ گاڑیاں فروخت بھی نہیں کی جا سکتیں ، اگر ملک میں کہیں غیر قانونی ایسی گاڑیاں موجود ہیں تو اس ضمن میں صوبے ہمارے ساتھ تعاون کریں ہمارے پاس سمگل شدہ گاڑیوں کے حوالے سے بڑے بڑے شہروں کی تفصیلات موجود ہیں اس کی تفصیلات فراہم کر دی جائیں گی۔ وزارت داخلہ کے ملازمین وزیر داخلہ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ وزارت داخلہ کے حوالے سے ایوان میں مفصل بحث کرائی جائے اور وہاں جو رہنما اصول وضع کئے جائینگے ہم انہیں اپنانے پر تیار ہیں جس پر سپیکر نے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ قائمہ کمیٹی میں معاملہ زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں وزارت داخلہ کی کٹوتی کی تحریکوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمان کی بالادستی کی بات کی ہے۔ اصلاحات ایجنڈے کا پہلا نکتہ ہونا چاہیے ، ہم عوامی نمائندے ہیں اور ملک کی بہتری چاہتے ہیں۔ عالیہ کامران نے کٹوتی کی تحاریک پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ اسلام آبادمیں سٹریٹ کرائمز اوردیگرجرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، دارالحکومت میں راستے بندکرنے سے ایندھن اور وقت ضائع ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے مگر یہ بتایا جائے کہ ان سوسائٹیز کوسہولت کاری کون لوگ فراہم کر رہے ہیں، سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ اسلام آباد کلب اورگنزاینڈکنٹری کلب نے سرکاری اراضی کو غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں رکھا ہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے، مارگلہ ہلز میں مونال کی طرح شکرپڑیاں میں بھی ریستورانوں کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ شکرپڑیاں نیشنل پارک کاحصہ ہے۔ آصف خان نے کہاکہ پشاور میں کوہاٹی گیٹ میں نادرا نے جو دفتر قائم کیاہے اس میں خواتین کیلئے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے،پاسپورٹ دفاتر میں لوگوں کومشکلات کاسامنا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سائبرکرائمزکے حوالہ سے ایف آئی اے کی کارگردگی کوفعال بنانے کی ضرورت ہے۔سردارلطیف کھوسہ نے کہاکہ وزارت داخلہ وانسدادمنشیات کیلئے فنڈز زیادہ رکھے گئے ہیں مگرکارگردگی میں کمی آئی ہے،ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے، انسداد منشیات کے حوالہ سے کارکردگی بتائی جائے، پولیس میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انجینئر حمید حسین نے کہاکہ وزارت داخلہ کے اخراجات کاکوئی نتیجہ بھی سامنے آنا چاہئے، ہمارے حلقہ میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، یواے ای سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے پاسپورٹس بلاک کئے جارہے ہیں، جرائم پیشہ افرادکے خلاف کارروائی کی جائے تاہم روزگارکیلئے جانیوالے پاکستانیوں کو سہولیات فراہم ہونی چاہئے۔ ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے یو اے ای میں اثاثہ جات و واجبات کی ادائیگی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ شبیر قریشی نے کہاکہ ایف آئی اے کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے، میرے حلقہ میں ایک نوجوان کی پولیس کسٹڈی میں ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لیا جائے، فورینزک رپورٹ میں دل کے دورہ کی تردید اورگلہ دبانے سے ان کی موت کی تصدیق ہوئی ہے،پاسپورٹ آفسزمیں ٹائوٹ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے۔ معظم جتوئی نے بتایا کہ کچے کے علاقہ میں رہنے والے بہت سارے لوگوں کے آئی ڈی کارڈز نہیں ہیں، اس مسئلہ کاحل نکالاجائے،میرے حلقہ سے تعلق رکھنے والے 6ہزارکے قریب لوگوں کویواے ای سے بغیرکسی وجہ کے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے، اس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے، کالجز اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے خاتمہ کو یقینی بنایا جائے۔ نور عالم خان نے کہاکہ منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے جامع اقدامات ضروری ہیں، اسلام آباد ائیر پورٹ پر اے این ایف کاعملہ منشیات کی چیکنگ کی بجائے لوگوں کے پاسپورٹس چیک کرتے رہتے ہیں حالانکہ یہ کام ایف آئی اے کاہے،آئس کی فروخت اورسمگلنگ پرسزاوں میں اضافہ کیا جائے،بلوچستان اورخیبرپختونخوامیں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے۔ اسد قیصرنے کہاکہ جی ٹی روڈ پر پشاورسے آتے ہوئے ٹول پلازہ کے قریب چیک پوسٹ کی وجہ سے میلوں روڈبلاک ہوتا ہے، غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔بلوچستان کی صورتحال پروزارت داخلہ کیا اقدامات کر رہی ہے، خیبرپختونخوا میں سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فیصل امین گنڈاپورنے کہاکہ جنوبی خیبرپختونخواشام کے بعد نوگوزون بن چکا ہے، پولیس ایف سی اور سکیورٹی فورسزکیلئے وسائل میں اضافہ کیا جائے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے۔ علی محمدخان نے کہاکہ اسلام آبادمیں احتجاج کیلئے آنیوالے لوگوں پرتشددنہیں کرناچاہیے،بھارتی ایجنڈے کے خلاف ہم سب ایک ہیں، ہم پاکستانی اورپاکستان ہماراہے۔ریاض فتیانہ نے کہاکہ ائیرپورٹس پردستاویزات رکھنے والے لوگوں کوآف لوڈکیاجا رہا ہے، سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈز پرکوئی پیش رفت نہیں ہورہی،قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اوربلدیاتی انتخابات ایک ہی روزمیں کئے جائیں،ہاوسنگ کالونیزکے فراڈکانوٹس لیاجائے۔نعیمہ کشورخان نے کہاکہ جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز کیوں بنی ہیں،اسلام آبادمیں پانی کامسئلہ سنگین ہورہاہے،سائبرکرائمز،انسانی سگلنگ،خواتین اوربچوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں،اسلام آباد میں شیشہ کلچر پر قابو پایا جائے۔ شاندانہ گلزارنے کہاکہ دہشت گردی میں 32فیصداضافہ ہوا ہے، دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کے شہدا کی تعدادمیں اضافہ ہورہاہے،اقلیتوں اورخواتین کے خلاف اقدامات کاسدباب کیاجائے،امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے نوجوان ملک سے باہرجارہے ہیں۔ شہریار آفریدی نے کہاکہ پولیس کی استعدادکارمیں بہتری لائی جائے،کریمنل جسٹس سسٹم ناکام ہونے سے انارکی پھیلتی ہے،جیلوں میں اصلاحات کی جائیں منشیات کے خلاف موثر اور جامع پالیسی بنائی جائے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ جمال احمد نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں پر غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں،قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر جانبدار ہو کر اپنا کردار ادا کریں اور شہریوں و نمائندگان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔شاہدہ اخترعلی نے کہاکہ نیشنل سائبر کرائم انٹیلی جنس ایجنسی کے قیام کے باوجود موجودہ وسائل اور افرادی قوت اس بڑھتے ہوئے سائبر کرائم کے حجم کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی صلاحیت بڑھائی جائے، مناسب فنڈنگ اور سہولیات فراہم کی جائیں۔اسلام آباد میں تیزی سے بڑھتی ہوئی تعمیرات اور ہائوسنگ سوسائٹیز بھی ایک مسئلہ بن رہی ہیں۔ اگرچہ ترقی ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ماحول، سبزہ اور شہری سہولیات جیسے پارکنگ کا بھی خیال رکھنا ناگزیر ہے، لہٰذا گزارش ہے کہ لاء اینڈ آرڈر پر فوری توجہ دی جائے، فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے، اداروں کی صلاحیت بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں توازن برقرار رکھا جائے۔ شفقت عباس نے کہاکہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں میں شفافیت اور احتساب یقینی بنایا جائے ،نادرا کے نظام کو عوام کیلئے آسان اور فوری بنایا جائے اور منشیات کے خلاف سخت اور جامع قانون سازی کی جائے۔ملک انور تاج نے کہا کہ مارگلہ روڈ پر اتنی زیادہ چیک پوسٹیں نہیں ہونی چاہئیں۔ آئس اور نشہ بہت بڑھ رہا ہے اس میں ملوث عناصر کو ایسی سزائیں دیں کہ وہ دوبارہ اس کے بارے میں نہ سوچے۔ داوڑ خان کنڈی نے کہا کہ جہاد کے نام پر برین واشنگ کی آگ کے شعلے آج پاکستان بھگت رہا ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمہ کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ساجد خان نے کہا کہ آئس اور منشیات بھی دہشت گردی کی طرح بڑھ رہی ہے اس پر بھی دہشت گردی کی طرح کے کریک ڈائون کی ضرورت ہے۔ عمیر خان نیازی نے کہا کہ ملک میں ہیومن سکیورٹی کا فقدان ہے۔اس کو وزارت داخلہ کو دیکھنا چاہئے۔ بعد ازاں سپیکر نے کٹوتی کی تحریکیں ایوان میں پیش کیں جن کو کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے 4 مطالبات زر کی ایوان نے منظوری دیدی۔








