سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کو باعزت بری ہونے پر مکمل تنخواہ اور مراعات دینے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم فوجداری مقدمے میں الزامات سے باعزت بری ہو جائے تو وہ اپنی ملازمت کی مدت کے دوران واجب الادا مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا حقدار ہوگا جبکہ ملازمت سے علیحدگی کی مدت کو بھی ’’ڈیوٹی پر گزارا گیا وقت‘‘ تصور کیا جائے گا

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم فوجداری مقدمے میں الزامات سے باعزت بری ہو جائے تو وہ اپنی ملازمت کی مدت کے دوران واجب الادا مکمل تنخواہ، الاؤنسز اور دیگر مراعات کا حقدار ہوگا جبکہ ملازمت سے علیحدگی کی مدت کو بھی ’’ڈیوٹی پر گزارا گیا وقت‘‘ تصور کیا جائے گا۔تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ محکمانہ اور فوجداری کارروائیوں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے، اس لئے دونوں کارروائیاں آزادانہ طور پر بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں تاہم کسی سرکاری ملازم کو تادیبی کارروائی کے ذریعے ملازمت سے برخاست کرنے سے قبل اسے مؤقف پیش کرنے اور صفائی کا پورا موقع دینا آئینی تقاضا ہے بصورت دیگر ایسی کارروائی قانون اور آئین کے منافی ہوگی۔سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرہ ملازم کی اپیل منظور کر لی۔

عدالت نے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ بحال کئے گئے ٹیچر کی سابقہ تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کے معاملے کا دو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔مقدمے کے مطابق بنوں سے تعلق رکھنے والے گریڈ 17 کے ایک سرکاری سکول ٹیچر کو فوجداری مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے اسے الزامات سے بری کر دیا جس کے بعد محکمہ تعلیم نے ملازم کو دوبارہ بحال تو کر دیا لیکن سابقہ مدت کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ باعزت بریت کی صورت میں ملازم کو ان تمام حقوق اور مراعات سے محروم نہیں کیا جا سکتا جو اسے ملازمت میں برقرار رہنے کی صورت میں حاصل ہوتیں، لہٰذا متعلقہ حکام قانون کے مطابق اس کے مالی و سروس فوائد کا ازسرنو تعین کریں۔