قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورکی لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈورکووفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورنے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کو وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے،کمیٹی نے تمام صوبوں کو غیر ملکی تربیتی مواقع میں متوازن طور پر شامل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس بدھ کویہاں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس …

اسلام آباد۔19نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امورنے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور کو وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے،کمیٹی نے تمام صوبوں کو غیر ملکی تربیتی مواقع میں متوازن طور پر شامل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس بدھ کویہاں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے وزارت مواصلات اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کو لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈورکے طویل عرصے سے التوا ءکا شکار منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے تمام قابلِ عمل راستوں کو مشترکہ طور پر تلاش کرنے کی سفارش کی۔

کمیٹی کے اراکین نے کوریڈور کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبہ سے نہ صرف کراچی میں مال برداری کی روانی بہتر ہو گی بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی اور ملک کے لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے رائے دی کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام اس منصوبے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد اور موزوں مالیاتی طریقہ کار فراہم کررہاہے۔

کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ مواصلات منصوبہ کوپی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے تاکہ اس اہم منصوبے کو ترجیح ملے اور بروقت عملدرآمد کی طرف پیشرفت ممکن ہوسکے۔ کمیٹی نے منصوبہ کے روٹ کا آن گراؤنڈ معائنہ کرنے اور منصوبے کے پائیدار و قابلِ عمل حل کے لئے مقامی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ضمن میں کراچی میں اپنا اگلا اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی دی۔اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری آئی ایم ایف پروگرام پر کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔کمیٹی نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہا۔

کمیٹی نے سرکاری قرضوں کی موجودہ تعریف پر تشویش کا اظہار کیا اور اراکین نے زور دیا کہ قرضے کی تعریف میں حکومت کی تمام اقسام کی مالی ذمہ داریاں شامل ہونی چاہئیں تاکہ قومی قرضے کی مجموعی اور درست تصویر سامنے آ سکے۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ پرائمری سرپلس کی وضاحت میں زیادہ شفافیت ضروری ہے۔ اراکین کے مطابق ایسی وضاحت یہ سمجھنے کے لئے اہم ہے کہ کتنی رقم قرض کی ادائیگی پر خرچ ہو رہی ہے اور کتنا نیا قرض لیا جا رہا ہے۔اجلاس میں ٹیکسوں میں غیر معمولی اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا جو بعض شعبوں میں 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور صنعتی شعبے پر بھاری بوجھ ڈال رہا ہے۔

اراکین نے کہا کہ ٹیکسوں کی بلندشرح سے نہ صرف صنعتی مسابقت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاری میں رکاوٹیں اور اور روزگار کے مواقع محدودہورہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے بعض صنعتوں نے یا تو اپنی پیداوار کم کر دی ہے یا بیرونِ ملک منتقل ہو گئی ہیں جس سے معیشت اور محصولات دونوں کو نقصان پہنچا ہے۔اجلاس میں اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے سرکاری افسران کے لئے غیر ملکی تربیتی پروگراموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ پروگرام گورننس، پبلک فنانس، توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں تکنیکی مہارت بڑھانے، پالیسی میں جدت لانے اور قیادت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ترتیب دیئے جاتے ہیں جو قومی ترجیحات اور ایس ڈی جیز سے ہم آہنگ ہیں۔ یہ اقدامات جاپان، چین، امریکہ اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک اورجائیکا، عالمی بینک اوریواین ڈی پی جیسے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے کئے جاتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نامزدگی اور انتخاب کا عمل شفاف اور اہلیت پر مبنی معیار پر ہوتا ہے جس میں پیشہ وارانہ مطابقت، تعلیمی پس منظر اور صنفی توازن شامل ہیں، حتمی انتخاب وزارت کی فارن ٹریننگ کمیٹی کرتی ہے۔

تربیت کے بعد رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے مضبوط نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ حاصل شدہ مہارتیں ادارہ جاتی کارکردگی میں مؤثر کردار ادا کریں اور نئے شعبوں میں آئندہ تعاون کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے غیر ملکی تربیتی پروگراموں کے لئے خطوں کے لحاظ سے انتخابی اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ صوبہ سندھ سے کل 139درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 19 کاانتخاب کیا گیا۔ خیبرپختونخوا سے کل 178درخواستوں میں سے 58، بلوچستان سے 300درخواستوں میں سے 64،آزاد جموں و کشمیرسے کل 86درخواستوں میں سے 33 جبکہ پنجاب سے کل 198درخواستوں میں سے 52 افسران کاانتخاب کیاگیا۔

کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ سندھ سے کم انتخاب کی وجوہات کی تفصیلی وضاحت پیش کی جائے اور آئندہ پروگراموں میں صوبے سے نامزدگیوں اور کامیابی کی شرح بہتر بنانے کی حکمتِ عملی پر مشتمل ایک رہنما نوٹ تیار کیا جائے۔ شمولیت اور مساوی نمائندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کمیٹی نے سفارش کی کہ تمام صوبوں کو غیر ملکی تربیتی مواقع میں متوازن طور پر شامل کیا جائے تاکہ وفاق بھر میں قومی صلاحیت سازی کو فروغ ملے۔ اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، شاہد عثمان، محمد خان ڈاہا، صبا صادق، پیر سید فضل علی شاہ جیلانی، سیدہ شہلا رضا، محمد جاوید حنیف خان، نیلم، ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ اقتصادی امور، وزارت کے حکام اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔